تشنہ لب مظلوم سرورؑ الوداع
فاطمہ زہراؑ كے دلبر الوداع
شان مجلس تھا تمہارا ذکرِ غم
رونقِ مہراب و ممبر الوداع
ہے جوانی بھی وبالِ زندگی
اب تمہارے غم میں اکبرؑ الوداع
لیجئے عونؑ و محمدؑ اب سلام
صابرہ زینبؑ كے دلبر الوداع
دِل سے اب نقشِ وفا مٹتا نہیں
جاؤ عباسِؑ دلاور الوداع
مجلسوں میں ہم کو روتا چھوڑ کر
مسکراتے جاؤ اصغرؑ الوداع
جان مادر اے حسن کے لاڈلے
جسم ہے پامال لشکر الوداع
اے پیاسی سکینہ جان شاہ دیں
لائے ہیں اشکوں کے ساغر الو داع
اب نہ زینبؑ جاؤ گی تم سر کھلے
نذر ہے گریے کی چادر الوداع
روتے ہیں باقر محبانِ حسین
کہتے ہیں سبطِ پیمبرؑ الوداع