تر خون میں ہوئی حیدرؑ کی جبیں
یوں روتے ہیں جبریلِ امیں
ؑیا علیؑ یا علی
یہ تیغ چلی کس کے سر پر
ؑزخمی ہوئے سجدے میں حیدر
کیوں ہلنے لگا ہے عرشِ بریں
تر خون میں ۔۔۔
کرتی ہیں اذانیں واویلا
مسجد کا صحن ہے فرشِ عزا
حیدرؑ کے لہو سے تر ہے زمیں
تر خون میں ۔۔۔
کیوں روزے دار پہ ظلم کیا
تُو نے بنِ ملجم یہ تو بتا
شق ہو گئی کیوں مولاؑ کی جبیں
تر خون میں ۔۔۔
حسنینؑ کے سر سے سایہ اُٹھا
مغموم ہوئی کعبے کی فضا
مرقد میں نبیؐ کو چین نہیں
تر خون میں ۔۔۔
وہ شاہِ عرب وہ شیرِ خُدا
وہ نفسِ نبیؐ وہ دستِ خُدا
کیوں تیغ چلائی دشمنِ دیں
تر خون میں ۔۔۔
زینبؑ پہ یتیمی چھائی ہے
مسجد سے خبر یہ آئی ہے
لو قتل ہوا کعبے کا مکیں
تر خون میں ۔۔۔
عباسؑ تڑپ کر روتے ہیں
رُخصت میرے مولا ہوتے ہیں
گر جائے فلک پھٹ کر نہ کہیں
تر خون میں ۔۔۔
ریحان بچھاؤ فرشِ اعزا
گھر گھر سے اُٹھے ماتم کی صدا
اس غم کی کسی کو تاب نہیں
تر خون میں ۔۔