غم سکینہؑ کو ملے اتنے مسلمانوں سے
مر گئی پر نہ کبھی ہاتھ ہٹے کانوں سے
شام جاتے ہوئے ناقے سے گری یوں بچی
مشک غازی کی گری جیسے کٹے شانوں سے
غم سکینہؑ کو ملے ۔۔۔۔۔
چونک اٹھتی تھی مدینے میں یہ کہہ کر بانو
کوئی آواز مجھے دیتا ہے ویرانوں سے
غم سکینہؑ کو ملے ۔۔۔۔۔
کتنی بے رحمی سے ظالم نے اُتارے وہ گوہر
شہ نے بیٹی کو جو پہنائے تھے ارمانوں سے
غم سکینہؑ کو ملے ۔۔۔۔۔
مجھ کو کُرتے میں ہی دفنانا سکینہ نے کہا
مت کفن مانگنا اے بھائی مسلمانوں سے
غم سکینہؑ کو ملے ۔۔۔۔۔
کوئی غیبت میں اُنہیں دیکھ کے خوں روتا ہے
رِستا رہتا ہے لہو آج بھی جن کانوں سے
غم سکینہؑ کو ملے ۔۔۔۔۔
سب چلے جاتے ہیں شبیر کو رو کر اکبر
ایک بچی نہیں جاتی ہے اعزاخانوں سے
غم سکینہؑ کو ملے ۔۔۔