یآ مصطفیٰؐ یآ مجتبیٰؑ ، غم ہے دو معصوموں کا
وہ محمدؐ یہ حسنؑ ، دونوں ہیں زیرِ کفن
دین نے نوحہ پڑھا ، یا مصطفیٰؐ یا مجتبیٰؑ
یآ مصطفیٰؐ یآ مجتبیٰؑ
مادر حسنین جاں ، بابا پہ گریہ کناں
رو رہی ہیں فاطمہ ، یا مصطفی یا مرتضی
دو نمازی اُٹھ گئے ، مسجدوں كے دِل ہلے
غمزدہ کعبہ ہوا ، یا مصطفیٰؐ یا مجتبیٰؑ
یآ مصطفیٰؐ یآ مجتبیٰؑ
صاف ظاہر ہو گیا ، کرتے ہیں یہ اشقیاء
کربلا کی ابتداء ، یا مصطفیٰؐ یا مجتبیٰؑ
یآ مصطفیٰؐ یآ مجتبیٰؑ
ظلم نے سازش یہ کی ، تیروں کی بارش ہوئی
زخمی لاشہ کر دیا ، یا مصطفیٰؐ یا مجتبیٰؑ
یآ مصطفیٰؐ یآ مجتبیٰؑ
میّتِ شبّرؑ اُٹھی ، آگئے مل کر شقی
دفن نہ لاشا ہوا ، یا مصطفیٰؐ یا مجتبیٰؑ
یآ مصطفیٰؐ یآ مجتبیٰؑ
نوحہ گر قرآن ہے ، سینہ زن ایمان ہے
ہر طرف ہے یہ صدا ، یا مصطفیٰؐ یا مجتبیٰؑ
یآ مصطفیٰؐ یآ مجتبیٰؑ
غمزدہ شاہِ نجف ، چل دئے یہ کس طرف
پڑھ رہے تھے مرثیہ ، یا مصطفیٰؐ یا مجتبیٰؑ
یآ مصطفیٰؐ یآ مجتبیٰؑ
یہ زمین و آسماں ، کرتے ہیں آہ و فغاں
ہے یہ نوحہ ہر جگه ، یا مصطفیٰؐ یا مجتبیٰؑ
یآ مصطفیٰؐ یآ مجتبیٰؑ
سیّدہؑ زخمی جگر ، غم سہے ہیں کس قدر
رو رہی ہیں فاطمہؑ ، یا مصطفیٰؐ یا مجتبی
یآ مصطفیٰؐ یآ مجتبیٰؑ
قیصر و رضواں اٹھو ، فاطمہؑ كے گھر چلو
کرنا ہے ماتم بپا ، یا مصطفیٰؐ یا مجتبیٰؑ
یآ مصطفیٰؐ یآ مجتبیٰؑ