بانو نے کہا اے میرے جانی علی اکبرؑ
برباد ہوئی تیری جوانی علی اکبرؑ
بانو نے کہا ۔۔۔
کب بانوئے ناشاد کو اس دن کی خبر تھی
لُوٹے گی قضا تیری جوانی علی اکبرؑ
بانو نے کہا ۔۔۔
پیاسے ہی لڑے پیاسے ہی دنیا سے سدھارے
ماں دے نہ سکی نزع میں پانی علی اکبرؑ
بانو نے کہا ۔۔۔
مرنے کے نہیں یہ تو ابھی بیاہ کے دن تھے
برچھی نہ ابھی تھی تمہیں کھانی علی اکبرؑ
بانو نے کہا ۔۔۔
دل خون ہوا جاتا ہے فُرقت میں تمہاری
رُکتی نہیں اشکوں کی روانی علی اکبرؑ
بانو نے کہا ۔۔۔
تُوں احمدِ مُرسل کی جوانی کا نشاں تھا
اعدا نے تیری قدر نہ جانی علی اکبرؑ
بانو نے کہا ۔۔۔
جس نے تمہیں مارا وہ مسلمان نہ ہو گا
تھے تم تو محمدؐ کی نشانی علی اکبرؑ
بانو نے کہا ۔۔۔
مشکل تھا ضعیفی میں یہ آسان کہاں تھا
بیٹے کی جواں لاش اُٹھانی علی اکبرؑ
بانو نے کہا ۔۔۔
اے لعل اب آنکھوں سے سوجھائی نہیں دیتا
آجاؤ میرے یوسفِ ثانی علی اکبرؑ
بانو نے کہا ۔۔