So rahay hain sab meray wali o dilbar rait par
Efforts: Mrs. Nighat Rizwan



سورہے ہیں سب میرے والی و دلبر ریت پر
بانو بیٹھی ہی رہے گی زندگی بھر ریت پر

ہوتی چادر سایہ کرتی ہائے کتنی دھوپ ہے
سو رہا ہے آگ كے میداں میں اکبرؑ ریت پر

پیاس میں بچوں کی کچھ ہوجاتی تھی شدت سوا
پھینکتے تھے جب عدو پانی دکھا کر ریت پر

جھولا تیرا جل گیا تو کیا ہوا اے میرے لال
لوریاں دونگی تجھے آجا لٹا کر ریت پر

باپ كے سینے پہ سر رکھ کر جسے آتی ہو نیند
کیسے سوئے شاہؑ کی وہ ننھی دختر ریت پر

شام كے رستے میں سر شبیرؑ کا اُس دم رکا
گر گئی ناقے سے جب بانوؑ کی دختر ریت پر