Shaam walo betiyan hain ye nahi ki na satao
Efforts: Mrs. Nighat Rizwan

شام والوں سے یہ سجادؑ کہا کرتے تھے
کیا زمانہ تھا کہ جب ہم بھی بسا کرتے تھے
ہم کیا کرتے تھے قرآن کی تفسیر بیاں
انبیاؑ آ کے بصد ناز سُنا کرتے تھے

یاد آتی تھی رسالت کی ادا بابا کو
بھائی اکبرؑ جو کبھی گھر میں چلا کرتے تھے
کیا بتاوں کہ میرے گھر کا تھا پردہ کیسا
بات یہ کہہ کے بہت آہ و بکا کرتے تھے

آئیں قائم تو بسے پھر سے مدینہ اپنا
رو کے بہلول یہ سجادؑ دعا کرتے تھے

شام والوں بیٹیاں ہیں یہ نبی کی نہ ستاؤ
ہر گلی شہزادیوں کو اے ستمگر نہ پھراؤ

قل کفا کے ہل عطا کے ہیں یہ وارث انما کے
سر برہنہ ہیں نہ دیکھو اپنی نظروں کو جھکاؤ
شام والوں بیٹیاں ہیں یہ نبی کی نہ ستاؤ

چلتے چلتے ڈھل چکی ہیں رات گلیوں میں ہماری
تھک گئے ہیں قیدی بچے بے گناہوں کو بٹھاؤ
شام والوں بیٹیاں ہیں یہ نبی کی نہ ستاؤ

بھیڑ کی یہ نہیں عادی یہ تو عصمت کی پلی ہیں
دربدر ان کورلا کر مجھ کو نہ خون رلاؤ
شام والوں بیٹیاں ہیں یہ نبی کی نہ ستاؤ

تم کو ہم دیں گے دعائیں دیدو کچھ دیر ردائیں
گر نہیں دیتے ردائیں تو چراغوں کو بجھاؤ
شام والوں بیٹیاں ہیں یہ نبی کی نہ ستاؤ

دیکھ لو آل نبیﷺ ہیں ہم ہی اولاد علیؑ ہیں
ہم نے کیا جرم کیا ہے ہم کو اتنا تو بتاؤ
شام والوں بیٹیاں ہیں یہ نبی کی نہ ستاؤ

شام بازار میں شمسی رو کے کہتے تھے یہ عابدؑ 
آل احمد کی مسلمانوں نہ توقیربھلاؤ