بعد حسینؑ کِس نے کہا میں یتیم ہوں
مقتل سے آراہی ہے سدا میں یتیم ہوں
جو ہے وہ ظلم کرتا ہے مجبور جان کر
شاید یہی ہے میری کھاتا میں یتیم ہوں
بابا کے ساتھ گھومنے پھرنے کی عمر تھی
ٹوٹا ہر اک خواب میرا میں یتیم ہوں
رو کر کہا سكینہ نے لاشِ حسینؑ پر
اب جاکے یہ یقین ہوا میں یتیم ہوں
بولی سكینہؑ کانوں پہ رکھ کر یوں اپنے ہاتھ
گوہر نا چھین بہرِ خدا میں یتیم ہوں
ہسنا تو دور رونے بھی دیتا نہیں کھوئی
کچھ اقتدار ہی نہ رہا میں یتیم ہوں
میں اپنے آنسوؤں سے بجھا لوں گی اپنی پیاس
دریا سے لوٹ آؤ چچا میں یتیم ہوں
سَر رکھ دیا سكینہؑ نے زینبؑ کی گود میں
رکھنا پھپھی خیال میرا میں یتیم ہوں
مقتل سے سوئے شام یہ کہتی ہوئی چلی
بابا میرا شہید ہوا میں یتیم ہوں