تپتی ہوئی ریتی پہ ہائے ٹکڑے بدن ہے
پہچانو مسلمانو یہ فرزند حسن ہے
ارمان تھا شادی کا تجھے دولہا بنانے کا
افسوس ہے اب ماں کے (2) ہاتھوں میں کفن ہیں
بھیا تیری مہندی میں اب کس کو لگاؤں گی
فریاد و بکا کرتی (2) ایک اجڑی بہن ہے
دوڑا دیے گھوڑے معصوم کے لاشے پہ
بکھرا ہوا کربل میں (2) قاسم تیرا تن ہے
بیٹا ہے کہاں تو اب آواز مجھے دینا
ٹکڑوں میں جمع کرتا (2) ہائے شاہ زمن ہے
قربانی حسن تیری کام آئی ہے اِس دیں کے
آلِ نبی کے صدقے (2) یہ دین جو روشن ھے