اب تو آ جاؤ شہنشاہِ وفا
رو رو کہتی تھی سکینہؑ رن میں
لٹ گئی ثانیءِ زہراؑ کی ردا
شمر نے مارے تمانچے ہیں میرے گالوں پر
جھڑکیاں دے کے اٹھایا ہے مجھے
بابا کی لاش پہ رونے نہ دیا
چھین لی سب کے ردائیں اور جلائے خیمے
ایسے لُوٹا ہے ستمگاروں نے
نہ کیا آلِ محمدؐ کا حیا
شام جانے کے لئے قافلہ تیار ہے جو
اُن میں اِک رات کی بیاہی ہے کھڑی
ہاتھوں سے اترا نہیں رنگِ حنا
توڑ دی مار کے اکبرؑ کے جگر میں برچھی
اور ستمگر نے کہا مولاؑ سے
یہ سُنا ہے کہ تو صابر ہے بڑا
صاحبِ عصرؑ یہ الفاظ ادا کرتے ہیں
کوئی خوبی یہ نہیں اختر کی
اِس کے نوحوں میں ہے زہراؑ کی دعا