Paamal huay Qasim Farwa ujarr gaye
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

پامال ہو ئے قاسمؑ، فروہؑ اجڑ گئی
زہرا کے دل پہ کیسی قیامت گزر گئی
پامال ہو ئے قاسم، فروہ اجڑ گئی

حیدرؑکی نشانی کو، مٹّی میں ملایا ہے
حیدر کو پیمبر کو، مرقد میں رلایا ہے
تصویرمجتبیٰؑ کی رن میں بکھرگئی

افسوس رہا دل میں، ارمان بھی سہرے کا
دیکھا ہے تیری ماں نے، سہرے کے عوض لاشہ
برچھی ستم کی ماں کے دل میں اتر گئی

زہراؑ تیرے چمن پر، کیسی خزاں یہ چھائی
لاشوں پہ کرے نوحہ شبیرؑکی تنہائی
برسایا آنکھ سے خوں بن میں جدھرگئی 

یہ زخِم جگرپایا، دلہن نہ تیری آئی
تقدیرمیری مجھ کو،اس دشت میں کیوں لائی
کیا گھر کو سجائے گی مادر جو گھر گئی

زینبؑ کے کلیجے کو، یہ داغ ملا کیسا
مہندی نہ تیری دیکھی، دیکھا نہ تیرا سہرا
بنتِ علیؑ کے دل پرآفت گزر گئی

بے درد زمانے نے، لوٹا سکون میرا
بھر نے نہیں پائے گا، یہ زخِم جگربیٹا
بارات تیری لے کرقسمت کدھرگئی

ٹکڑوں میں تیرا لاشہ، مولا جو رن سے لائے
کر تے تھے حرم نوحہ فضّہ نے کہا ہائے
لگتا ہے شاہزادی زینبؑ بھی مرگئی

پامال ہو ئے قاسمؑ، فروہؑ اجڑ گئی
زہراؑ کے دل پہ کیسی قیامت گزر گئی
پامال ہو ئے قاسمؑ، فروہؑ اجڑ گئی