Khanjar talay yeh sheh ne kaha may Hussain hoon
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

خنجر تلے یہ شہ نے کہا میں حسینؑ ہوں
راضی ہے مجھ سے میرا خدا میں حسینؑ ہوں
خنجر تلے یہ شہ نے کہا میں حسینؑ ہوں

یہ آج کا یزید ہے کیا، کل کے سب یزید 
لے لیں گے تیرے ظلم بھلے جس قدر مزید
مجھ کو نہ کر سکیں گے فنا، میں حسینؑ ہوں

ہو نے سے میرے صبح ہے، ہو نے سے میرے شام 
بُجھ جائیں گے جہان کے آتش کدے تمام
جلتا رہے گا میرا دیا، میں حسینؑ ہوں

سن لو کوئی بھی دور ہو، میرا ہی ہے وہ دور 
سن لو کہ جیسے جیسے گزرے گا وقت اور
گونجے گی اور میری صدا، میں حسینؑ ہوں

سجدے میں اپنی روح کو، پاتا ہوں میں سبک 
اوشمرتیزبڑھ میری جانب نہ رک نہ رک
خنجرگلو پہ میرے چلا، میں حسینؑ ہوں

کردے جدا سرِ پسرِنائبِ رسول
لے تو بھی کر کے دیکھ لے یہ کوششِ فضول
تجھ پر ابھی نہیں ہے کھلا، میں حسینؑ ہوں

چاہوں ابھی سروں سے میں، ٹکرا دوں آفتاب 
دریا میرے اشارے پہ بن جائے سیِل آب
مُٹّھی میں بند کرلوں ہوا، میں حسینؑ ہوں

جس نے نوید روند دیا، تخت وتاجِ شام
شبیرؑکی بہن ہے جو اس پرمیرا سلام
بعد حسینؑ جس نے کہا، میں حسینؑ ہوں

راضی ہے مجھ سے میرا خدا میں حسینؑ ہوں 
خنجر تلے یہ شہ نے کہا میں حسینؑ ہوں