Chalees baras rotay na kyun Abid e muztar
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

چالیس برس رو تے نہ کیوں عابِد مضطر
تا عمرسمایا رہا آنکھوں میں وہ منظر

دیکھا تھا انھیں آنکھوں سے بھائی کا وہ لاشہ
بے گور وکفن لاشے شہیدوں کے زمیں پر

پھرتا ہی رہا آنکھوں میں بھائی کا وہ لاشہ
برچھی تھی کلیجے میں انی سینے کے باہر

گزرے تھے کہاں رنج بہت پوچھا کسی نے
الشّام ہی الشّام کہا سرکوجھکا کر

دعوت کوئی دیتا تو یہ فرماتے تھےسجادؑ
گھر مجھ کو بلانا ہے تو مجلس کو بپا کر

دیکھے تھے جو عاشور کو اٹھتے ہو ئے شعلے
تا عمردھواں اٹھتا رہا آہ میں ڈھل کر

کیا گزری دلِ سیّدِ سجادؑ پہ اس دم
جب لوٹا گیا بیبیوں کا مقنع وچادر


کس مرد میں ےہ حوصلہ جزعابِدؑ بیمار
ماں بہنوں کوجو دیکھ لے بلوے میں کھلے سر