Ankhain taras gaye hain Akbar ke dekhnay ko
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

علی اکبرؑ علی اکبرؑ
صغراؑ نے خط میں لکھا دل مضطرب یے میرا
رہ رہ کے چھا رہا ہے آنکھوں تلے اندھیرا
آنکھیں ترس گیئں ہیں اکبرؑکے دیکھنے کو
علی اکبرؑ علی اکبرؑ، علی اکبرؑ علی اکبرؑ

لیلیٰ کے لب پہ ہردم، رہتا تھا ایک نالہ
ہوتا تو اس کے دم سے، گھر میں تھا ایک اُجالہ
آنکھیں ترس گیئں ہیں اکبرؑکے دیکھنے کو

اٹ جائیں گے وہ گیسو،سب خاک میں لہو میں
یہ دن بھی دیکھنا تھے سہرے کی آرزومیں
آنکھیں ترس گیئں ہیں اکبرؑکے دیکھنے کو

زینبؑ سے ہو کے رخصت، جب رن کو وہ چلا تھا
ہر کوئی بڑھ کے اس کے، ماتھے کو چومتا تھا
آنکھیں ترس گیئں ہیں اکبرؑکے دیکھنے کو

سنتے ہیں اس کا چہرا، سب خوں میں بھرگیا تھا
کہتے ہیں اس کے سر میں، نیزہ اتر گیا تھا
آنکھیں ترس گیئں ہیں اکبرؑکے دیکھنے کو

پھر عید آئی سب نے، پہنے نئے لبادے
آئے نہیں پلٹ کے، امت کے شاہزادے
آنکھیں ترس گیئں ہیں اکبرؑکے دیکھنے کو