انا اِبْن مکہ و منا
بیان کرتا ہوں دربارِ شام کا منظر
جہاں تھے سات سو کرسی نشین فتنہ گر
یزید جھوم رہا تھا شراب پی پی کر
اور ایسی بزم میں افسوس آلِ پیغمبر
تھا ان كے سامنے اِک بد کلام ممبر پر
بیان کرتا تھا جھوٹے یزید كے جوہر
جب اُس نے ختم کی تقریر بد کلامی پر
خطیبِ جہل سے بولے یہ عابدِؑ مضطر
كہ تو نے خُوش کیا مخلوق کو ضرور مگر
خریدا قہرِ خدا تو نے مختصر زَر پر
ارے جہاں ہو ذکر بد اطوار وہ ممبر کب ہے
لکڑیوں کا ہے وہ انبار وہ ممبر کب ہے
کہا یزید سے کچھ میں کہوں اجازت دے
یزید چُپ تھا تو درباری سارے کہنے لگے
یزید دے دے اجازت اسے بھی کہنے دے
یہ کیا کہے گا لرزتا ہے جو نقاحت سے
سنبھالے طوق و رسن شانِ کردگار آئی
امام آئے كے ممبر پہ ذوالفقار آئی
یا حسینؑ یا حسینؑ
یا حسینؑ یا حسینؑ
جس کا ممبر تھا وہی بر سرِ ممبر آیا
وہ اکیلا تھا مگر صورتِ لشکر آیا
لب كشاء صورتِ قرآن وہ حیدر آیا
جب وہ خاموش زباں بر سرِ دربار چلی
کربلا میں نہ چلی تھی جو وہ تَلْوار چلی
انا ابن مکہ و منا
انا ابن زم زم و صفا
انا ابن علی و فاطمہ
لہجہ نور میں مولا نے کہا بسم اللہ
لائق حمد و سنا ہے تو وہ ہی ایک خدا
جس نے ہَم آلِ محمد کو ہے تخلیق کیا
جس کو معلوم ہے معلوم ہے میرا شجرا
جو نہیں جانتا وہ سن لے تعرف میرا
انا ابن مکہ و منا
انا ابن زم زم و صفا
انا ابن علی و فاطمہ
ہَم کو اللہ نے چھ خوبیان بخشیں باخدا
علم اور حلم دیا اور دلِ مومن میں رکھا
ہے سماعت و فصاحت و شجاعت ورثہ
کم نہ تھی خوبیاں چھ جو كہ یہ عزت كے لیے
صفعتیں ساتھ ملیں اور فضیلت كے لیے
انا ابن مکہ و منا
انا ابن زم زم و صفا
انا ابن علی و فاطمہ
ہَم میں اول جو تھے وہ احمدِ مختار ہوئے
کوئی حمزہ تو کوئی جعفر طیّار ہوئے
ہَم ہی حیدر ہوئے عباسِ علمدار ہوئے
ہَم کو معراجِ رسالت بھی امامت بھی ملی
ہَم کو محرابِ عبادت میں شہادت بھی ملی
انا ابن مکہ و منا
انا ابن زم زم و صفا
انا ابن علی و فاطمہ
اُس کا فرزند ہوں سہہ روز رہا جو پیاسا
درمیاں زین و زمین جس کا رہا تھا لاشا
جس كے سجدے كے سبب خاک بنی خاکِ شفا
خاک اور خون میں ڈوبا تھا عمامہ جس کا
سُمِ اسپاں تلے روندا گیا لاشا جس کا
انا ابن مکہ و منا
انا ابن زم زم و صفا
انا ابن علی و فاطمہ
اہل انصاف اب انصاف سے اتنا کہہ دیں
جس کی چوکھٹ پہ سلامی کو فرشتے اتریں
نوکِ نیزا سے لعین ان کی ردائیں لوٹیں
تُم نے خیام نہیں اللہ کا گھر خاک کیا
کلمہ پڑھ پڑھ كے محمد کا جگر چاک کیا
انا ابن مکہ و منا
انا ابن زم زم و صفا
انا ابن علی و فاطمہ
جس كے پردے كے لیے آیتِ تطہیر آئے
سنگ برساتے ہوئے ان پہ یہاں تک لائے
حیف ہے روحِ محمد سے نہ تُم شرمائے
ہَم نے پابندِ رسن ہو كے تجھے مارا ہے
ابن مرجانا تو جیتا تو نہیں ہارا ہے
انا ابن مکہ و منا
انا ابن زم زم و صفا
انا ابن علی و فاطمہ
بات جب کھل گئی ساداتِ محمد ہیں یہاں
رَو دیئے اہل جفا اُبھرا بغاوت کا سماں
اور اسی شور میں حاکم نے دیا حکمی اذاں
سات افراد جو یک مشت اذاں دینے لگے
حق میں سجاد كے درباری بیاں دینے لگے
انا ابن مکہ و منا
انا ابن زم زم و صفا
انا ابن علی و فاطمہ
جب موذّن نے کیا کلمہ تکبیر ادا
بولے سجاد بُزُرگی ہے اسی کو ذیبا
جیسے ہی نام محمد کا موذّن نے لیا
مڑ كے حاکم سے کہا تیرے ارادے بد ہیں
یہ محمد ہیں تمھارے كہ ہمارے جد ہیں
انا ابن مکہ و منا
انا ابن زم زم و صفا
انا ابن علی و فاطمہ
عیب کیوں اپنے چھپاتا ہے اذانیں دے کر
تھے اگر تیرے محمد تو ستم کیوں ہَم پر
ڈال اِس طوق پہ زنجیر پہ اک بار نظر
زخم جو تو نے دیئے سب دلِ بیمار میں ہیں
بیٹیاں ہیں یہ محمد کی جو دربار میں ہیں
انا ابن مکہ و منا
انا ابن زم زم و صفا
انا ابن علی و فاطمہ
تو تو کہتا ہے كہ ہے ڈھونگ نعوذُ باللہ
نہ پیمبر نہ وحی آئی نا قرآں اُترا
پِھر اذانیں بھی تو دربار میں ہے دلواتا
لے منافق تیرے چہرے سے اترتی ہے نقاب
جس کا منکر ہے وہ قرآن تیرا لے گا حساب
انا ابن مکہ و منا
انا ابن زم زم و صفا
انا ابن علی و فاطمہ
اِس شقاوت پہ بھی ہَم ہارے نہیں جیت گئے
نام اذانوں میں تمہارے نہیں ہَم جیت گئے
کیا یہ قدرت كے اشارے نہیں ہَم جیت گئے
یک بہ یک فتحِ مبیں سب کو نظر آنے لگی
مرحبا سیّدِ سجاد صدا چھانے لگی
بولے پِھر عابدِ بیمار یہ عزت دیکھی
دیکھی یہ تختِ ستمگر یہ عزت دیکھی
پِھر گیا تجھ سے یہ دربار یہ عزت دیکھی
جس کا حامی ہو خدا کون اُسے ذلّت دے گا
عزتیں اُس کی ہیں اللہ جسے عزت دے گا
ہائے حسین ہائے حسین
اترے ممبر سے تو بابا كے کٹے سَر نے کہاں
مرحبا اے میرے سجاد غریبِ زہرہ
معجزہ سرور و ریحان فلک نے دیکھا
كہ خطبہءِ زینبؑ و سجّادؑ نے وہ کام کیا
حشر تک زکر حسینؑ ابن علیؑ عام کیا