Raza ko alam e ghurbat may mout aayi hay
Efforts: Mrs. Nighat Rizwan

رضاؑ کو عالم غربت میں موت آئی ہے
دیار طوس میں زہراؑ نے خاک اڑائی ہے

رضاؑ کو عالم غربت میں موت آئی ہے
نہ پاس بیٹا ہے بیٹی ہے اور نہ بھائی ہے

رضاؑ تھے عالم غربت میں کیا حسینؑ کے بعد
بچایادینِ رسولؑ خدا حسینؑ کے بعد
غم حسینؑ میں کچھ اسطرح سے روتے تھے
کہ جیسے روتے تھے زین العباء حسینؑ کے بعد
محب یہ کہتے تھے ہائے ہے ہیف دنیا سے
وہ جا رہا ہے جو شبیرؑ کافدائی ہے

دیا ہے آپ کو انگور میں وہ زہر دغا
لہو کے ساتھ وہ رگ رگ میں زہر پھیل گیا
شہادت حسن مجتبیؑ کا آئینہ
تمام ڈوبی ہوئی سوگ میں فضائیں ہیں
زبان خلق پہ فریاد ہے دہائی ہے

بہن وہ آپ کی مشہور قم کی معصومہؑ
چلی ہیں آپ سے ملنے کے واسطے مولاؑ
ملی شہادت مولاؑ کی جب خبر ان کو
تو سر کو آپؑ نے مہمل سے اپنی ٹکرایا
وہ تین دن رہیں بیمار اور اجل آئی
کہ دفن قم میں بہن ہے مشہد میں بھائی ہے

بہن امام رضاؑ کی ہے صورتِ زینبؑ
بسی ہے ان کی ہر اِک رگ میں سیرت زینبؑ
بہن کے دل میں رضاؑ کی تھی اسطرح الفت
کہ جیسے سبط نبی ؑ سے تھی الفتِ زینبؑ
بہن حسینؑ کی ہو یا بہن رضاؑ کی ہو
وفات دونوں نے پائی کہ غم میں پائی ہے

قدم قدم ہمیں آفات سے بچاتے ہیں
کہیں رضاؑ کہیں عباسؑ کام آتے ہیں
رضاؑ کی مدح میں جب بھی قلم اٹھایا ہے
فلک سے تازہ مضامین کھینچ کے آتے ہیں
ہمارے شعروں کا قیصر ہے جا بجا چرچہ
درِ رضاؑ سے یہ توقیر ہم نے پائی ہے