Laikin may nahi hoon
Efforts: Mrs. Nighat Rizwan



بہن نے خواب یہ کل شب دیکھا
شبیہہ مصطفیؑ بھیا ہمارا 
پدر کے ہاتھ سے بنتا ہے دولھا
بہت مسرور ہے خوش ہے سکینہؑ 
دمکتا ہے خوشی سے سب کا چہرہ
لیکن میں نہیں ہوں

پھپی اماں بلائیں لے رہی ہیں
بہت فضہ دعائیں دے رہی ہیں
ٹھکانہ کیا ہے بہنوں کی خوشی کا
جو مانگیں وہ جو چاہیں لے رہی ہیں
مناتاہے خوشی کنبہ ہمارا
لیکن میں نہیں ہوں

علی اصغرؑ کو شہبالا بنا کر
بٹھایا ماں نے اکبرؑ کے برابر
ہتھیلی پر رکھی مہندی ذرا سی
کھڑے ہیں پاس عباسؑ دلاور
مجھے قاسمؑ نے ہر خیمے میں ڈھونڈا
لیکن میں نہیں ہوں

دلہن کے پاس بیٹھی ہے سکینہؑ 
بہت مسرور ہے غازیؑ کا بیٹا
چچا اکبرؑ کی شادی کی خوشی میں
نیا ملبوس ہے باقرؑ نے پہنا
اچانک مجھ کو عابدؑ نے پکارا
لیکن میں نہیں ہوں

مہک سہرے کی یہ بتلا رہی ہے
سواری سیدہؑ کی آرہی ہے
نجف سے مرتضیؑ آئے ہوئے ہیں
ہَوا تعظیم کرنے جا رہی ہے
ہے آنچل مل کے سب بہنوں نے ڈالا
لیکن میں نہیں ہوں

اچانک خواب ٹوٹا روئی صغراؑ 
تھا گھر میں ہر طرف چھایا اندھیرا
علی اکبرؑ کے سینے میں تھا نیزہ
میرے بابا تمھیں دینے کو پرسہ
لیکن میں نہیں ہوں

ابھی تو خواب تھا کتنا سہانا
تھا جن ہاتھوں میں میں نے دیکھا کنگنا
وہ سینے کا لہو روکے ہوئے تھے
کہاں کی رسمِ شادی کیسا سہرا
سبھی دیتے ہیں بابا کو سہارا
لیکن میں نہیں ہوں

قمر بہتے رہے صغراؑ کے آنسو 
بھرے اکبرؑ کے خاک و خوں میں گیسو
علی اکبرؑ سوئے جنت سدھارے
فضا میں رہ گئی بس خون کی بو
جنازہ میں اٹھاتی مل کے بابا
لیکن میں نہیں ہوں