Yad aao gay bhayya
Efforts: Mrs. Nighat Rizwan



یاد آؤ گے بھیا
حسینؑ جاتا ہے مرنے کو اے میری زینبؑ 
قریب آگیااب وقت آخری زینبؑ 

سلام تم پہ اے بابا کی لاڈلی زینبؑ 
زینبؑ نے کہا کون ہے پردیس میں میرا
کیوں جاتے ہو تم چھوڑ کے بھیا مجھے تنہا
زینبؑ کو ہر اک موڑ پہ تڑپائے گی دنیا
یاد آؤ گے بھیاہائے یاد آؤ گے بھیا

بعد آپ کے ہوگا میری غربت کا یہ عالم
اُس وقت غریبی بھی کرے گی میرا ماتم
سادات کو جب راہ میں دے گا کوئی صدقہ
یاد آؤ گے بھیاہائے یاد آؤ گے بھیا

یاد آئے گا بھیا مجھے ارمان تمھارا
تم دیکھ نہیں پائے ہو اکبرؑ کا جو سہرا
دعوت کوئی شادی کی مدینے میں جو دے گا
یاد آؤ گے بھیاہائے یاد آؤ گے بھیا

اس ماہ سے منصوب تھیں بھیا میری خوشیاں
تھی سب سے بڑی عید میری تیسری شعباں
شعبان کے جب چاند کو دیکھے گی یہ بہنا
یاد آؤ گے بھیاہائے یاد آؤ گے بھیا

کتنا تھا خیال آپ کو پردے کا برادر
لے جاتے تھے تم رات کو اماں کی لحد پر
اب دیکھے گی زینبؑ کے کُھلے سر کو یہ دنیا
یاد آؤ گے بھیاہائے یاد آؤ گے بھیا

دیدار بھی ہو جائے گابیٹی کے بہانے
کیا شام کے زندان میں آؤ گے سُلانے
سوئے گی نہیں جب میری لوری سے سکینہؑ 
یاد آؤ گے بھیاہائے یاد آؤ گے بھیا

کسطرح بھلاؤں گی میں وہ درد کا منظر
وہ سوکھے گلے پر تیرے چلتا ہوا خنجر
زینبؑ کو نظر آئے گا جب بھی کوئی پیاسا
یاد آؤ گے بھیاہائے یاد آؤ گے بھیا

ہوتا تھا تکلّم یوں جدا بھائی بہن سے
جس طرح کوئی روح نکلتی ہو بدن سے
شہہؑ رن کو چلے کہتی رہی ثانی زہراؑ 
یاد آؤ گے بھیاہائے یاد آؤ گے بھیا