رونے والو شہر مدینے میں ایک ایسا بھی وقت آیا ہے
کلمہ گویوں نے کلمہ والوں کو بھرے دربار میں بلایا ہے
ہے مقدمہ رسول زادی کا بھرے دربار میں وہ آئی ہے
جن پہ اللہ بھی درود پڑھے ایسے فرزند ساتھ لائی ہے
غاسبان فدک نے پھر کیسے ان گواہوں کا دل دکھایا ہے
مسند مصطفی پہ غالب ہے سامنے مصطفی کی بیٹی ہے
میرا حق دیدو اے مسلمانو رو کے خیرالنساء یہ کہتی ہے
میرے با با کے بعد کیوں تم نے فاطمہؑ پہ یہ ظلم ڈھایا ہے
قبر احمد پہ جا کے کہنے لگیں فاطمہؑ کو نحیف کر ڈالا
دیکھو با با تمھاری امت نے کتنا مجھ کو ضعیف کر ڈالا
میرا محسن شہید کر ڈالا میرے پہلو پہ در گرایا ہے
بولا بے ظرف اے نبی زادی تیرے حق کو میں جانتا ہی نہیں
جو لکھی تھی تمھارے با با نے میں وہ تحریر مانتا ہی نہیں
چاک کر دی سندمحمدﷺکی قہقہہ زور سے لگایا ہے
فاطمہؑ سیدہ کو با با کی گر وراثت پہ اختیار نہیں
پھر وہ عورت نبی کے حجرے کی اے مسلمانو ورثہ دار نہیں
جس نے مولا حسنؑ کی میت پہ تیر ہاتھوں سے خود چلایا ہے