ننھے مجاہد رن میں جا کر تم نہیں آئے
شاہ تو آئے جان مادر تم نہیں آئے
تم نے اشاروں میں یہ کہا تھا
دے دیں رضا مقتل کی خدارا
کر کے فتح میں آؤں گا لشکر
تم نہیں آئے
پیاس سے روتا ہے یہی جانا
ضد کو کوئی بھی نہ پہچانا
دے دی رضا وہ بھی تمہیں دلبر
تم نہیں آئے
کب سے کھڑی ہوں خیمے کے در پر
آنکھوں میں لے کر اشکوں کے ساغر
پیش کروں آجاؤ اصغرؑ
تم نہیں آئے
تیر لگا ہے کیا گردن پر
جو نہیں دیکھا ماں کو پلٹ کر
کون سی مجبوری تھی اصغرؑ
تم نہیں آئے
قتل ہوئے جو جور و جفا سے
ساتھ اٹھا کر لائے وہ لاشے
آتے ہیں تنہا رن سے سرورؑ
تم نہیں آئے
رات اندھیری دشتِ بیاباں
ڈر نہیں جانا رن میں میری جاں
کیسے رہو گے ماں سے بچھڑ کر
تم نہیں آئے
خالی جو پہلو پاؤں گی بیٹا
غم سے پھٹے گا میرا کلیجہ
رات بھی گذرے گی رو رو کر
تم نہیں آئے
ہنستے ہوئے خیموں سے سدھارے
؟؟؟؟؟؟؟
ہو گیا کیا میدان میں جا کر
تم نہیں آئے
ہنستے ہوئے خیموں سے سدھارے
پیش نظر ہیں سارے نظارے
کھو گئے کیا میدان میں جا کر
تم نہیں آئے
کس کو سنائوں گی میں کہانی
یہ بھی نہ سوچا یوسف ثانی
ماں سے کٹے گی رات یہ کیونکر
تم نہیں آئے
کس نے انیس غم کو پکارا
سنواؤ آواز دوبارہ
نوحہ یہی تھا بانو کے لب پر
تم نہیں آئے