Nanhay mujahid ran may ja kar tum nahi aaye
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

ننھے مجاہد رن میں جا کر تم نہیں آئے
شاہ تو آئے جان مادر تم نہیں آئے

تم نے اشاروں میں یہ کہا تھا
دے دیں رضا مقتل کی خدارا
کر کے فتح میں آؤں گا لشکر
تم نہیں آئے

پیاس سے روتا ہے یہی جانا
ضد کو کوئی بھی نہ پہچانا
دے دی رضا وہ بھی تمہیں دلبر
تم نہیں آئے

کب سے کھڑی ہوں خیمے کے در پر
آنکھوں میں لے کر اشکوں کے ساغر
پیش کروں آجاؤ اصغرؑ
تم نہیں آئے

تیر لگا ہے کیا گردن پر
جو نہیں دیکھا ماں کو پلٹ کر
کون سی مجبوری تھی اصغرؑ
تم نہیں آئے

قتل ہوئے جو جور و جفا سے
ساتھ اٹھا کر لائے وہ لاشے
آتے ہیں تنہا رن سے سرورؑ
تم نہیں آئے

رات اندھیری دشتِ بیاباں
ڈر نہیں جانا رن میں میری جاں
کیسے رہو گے ماں سے بچھڑ کر
تم نہیں آئے

خالی جو پہلو پاؤں گی بیٹا
غم سے پھٹے گا میرا کلیجہ
رات بھی گذرے گی رو رو کر
تم نہیں آئے

ہنستے ہوئے خیموں سے سدھارے
؟؟؟؟؟؟؟
ہو گیا کیا میدان میں جا کر
تم نہیں آئے

ہنستے ہوئے خیموں سے سدھارے
پیش نظر ہیں سارے نظارے
کھو گئے کیا میدان میں جا کر
تم نہیں آئے

کس کو سنائوں گی میں کہانی
یہ بھی نہ سوچا یوسف ثانی
ماں سے کٹے گی رات یہ کیونکر
تم نہیں آئے

کس نے انیس غم کو پکارا
سنواؤ آواز دوبارہ
نوحہ یہی تھا بانو کے لب پر
تم نہیں آئے