یہ کون سی مستورہ ہے کیا مانگ رہی ہے
اسلام کی خدمت کا صِلا مانگ رہی ہے
ہر صاحبِ غیرت سے ردا مانگ رہی ہے
پردیس میں مرنے کی دُعا مانگ رہی ہے
افسردہ ہے افلاک سیاہ پوش زمیں ہے
جبریل زرا دیکھ یہ زینبؑ تو نہیں ہے
اللہ یہ کیسا منظر ہے
بے پردہ شامیوں میں اولادِ پیمبرؐ ہے
اللہ یہ کیسا منظر ہے
ندا دے رہا ہے یہ ہنس کر منادی
اے لوگو گھرو ں سے نکل آؤ جلدی
سزائیں دو ان کو یہ باغی ہیں باغی
بجتے ہیں شادیانے ہر ہاتھ میںپتھر ہے
اللہ یہ کیسا ۔۔۔۔
کہاں خوف کھاتا ہے ظالم کسی سے
بُلاتا ہے اک اک کو وہ نام لیکے
ہر اک بی بی چھپتی ہے زینب کے پیچھے
خود کو چھپائے زینب فضہ کی پشت پر ہے
اللہ یہ کیسا ۔۔۔۔
بتاتا ہے شمر آ کے خود شامیوں کو
کہ کاٹا ہے میں نے اسی سے سروں کو
دیکھاتا ہے لہرا کہ پھر بیبیوں کو
ہاتھوں میں اُس شقی کہ اک خوں بھرا خنجر ہے
اللہ یہ کیسا ۔۔۔۔
ہوا ہے اسر اتنا بینائیو پر
عجب کشمکش میں ہے اصغر کی مادر
ہر اک نیزہ بردار کہ پاس جاکر
رو رو کے پوچھتی ہے کیایہ میرا اصغر ہے
اللہ یہ کیسا ۔۔۔۔
اسیروںپہ کیسی مصیبت بنی ہے
ہر اک بی بی بازار میں ڈھوندتی ہے
سکینہ کہیں بھیڑ میں کھو گئی ہے
محشر سے پہلے برپا بازار میں محشر ہے
اللہ یہ کیسا ۔۔۔۔
قیامت میں کیسی قیامت ہے برپا
تکلم ہے گودی میں اصغر کا لاشہ
عدالت میںخالق کی آتی ہے زہرا
نظریں جھکی ہیں سب کی نبیوں کے لبوں پر ہے
اللہ یہ کیسا ۔۔۔