کہتی تھی یہ زینبؑ یوں ماں کا مان نبھانا
اے عونؑ و محمدؑ اے عونؑ و محمدؑ
شبیرؑ کا تم صدقہ ہو اب خیمے میں بیٹا
تم لوٹ کر نہ آنا اے عونؑ و محمدؑ
ہے ماں کو یقین تم ماں کی بات رکھوگے
یہ یاد رہے خیموں میں ہیں پیاسے بچے
دریا پہ اگر جانا ہو سہہ روز کے پیاسو
تم پیاس نہ بجھانا اے عونؑ و محمدؑ
اے عونؑ ومحمدؑ۔۔۔
ہر حال میں تم پر لازم ہے شکر خدا کا
اے شہزادوں ہے صبر تمہارا ورثہ
فرزند ہو تم زینبؑ کے شکوہ نہیں کرنا
جب زخم کوئی کھانا اے عونؑ و محمد
اے عونؑ ومحمدؑ۔۔۔
کب ہم پہ ستم کر نے کے لئے آئے ہیں
یہ بدرواُحد کے بدلے کے لئے آئے ہیں
لازم ہے رجز سے پہلے میدان میں تم پر
مدحِ علیؑ سنانا اے عونؑ و محمدؑ
اے عونؑ ومحمدؑ۔۔۔
جب سانس تمہاری بچوں ہو اُکھڑنے والی
اُسوقت سرہانے آئیں گی مادر میری
دل کی یہ میری خواہش ہے اُس دم میری ماں سے
زخموں کو تم چھپانا اے عونؑ و محمدؑ
اے عونؑ ومحمدؑ۔۔۔
قاتل پہ کرم نانا کی طرح کردینا
یوں لاج میرے بھائی کے نام کی رکھنا
جو واسطہ دے بھائی کا میدان میں اُس پر
تم تیغ نہ چلانا اے عونؑ و محمدؑ
اے عونؑ ومحمدؑ۔۔۔
جب لاشے اُٹھا کرخیمے میں لائیں سرورؑ
زینبؑ یہ بولی اشکوں کو اپنے چھپا کر
میں بھی نہ تمہیں روؤنگی اور میرے لئے بھی
آنسو نہ تم بہانا اے عونؑ و محمدؑ
اے عونؑ ومحمدؑ۔۔۔
تعظیم کی خاطر کیوں اُٹھتے نہیں اب بیٹا
دیکھو تو سرہانے آئے ہیں میرے بھیا
جاگو میرے شہزادو! کیا بھول گئے ہو
قدموں پہ سر جھکانا اے عونؑ و محمدؑ
اے عونؑ ومحمدؑ۔۔۔
شاباش میرے بچوں ہوں میں اب تم سے راضی
یہ کہہ کہ تکلّم خاموش ہوئی شہزادی
نیزوں پہ سفر اب کر کے ہمراہ ہمارے
تم کو ہے شام جانا اے عون و محمد
اے عون ومحمد۔۔