السلامُ علیک یا غریب حسینا
تھا یہی رن میں غازیؑ کا نوحہ
بے دست ہو کر گرتا ہوں مولاؑ
یہ درد مجھ کو مرنے نہ دے گا
نکتی ہے رستہ بالی سکینہؑ
آؤ مدد کو اے ابنؐ زہراؑ
زینبؑ نے اُس کو نازوں سے پالا
اُس نے جو کھایا سینے پہ نیزہ
جلتی زمیں پر گر کے پکارا
زخمِ جگر کو ماں سے چھپانا
آؤ مدد کو اے ابنؐ زہراؑ
ہئے ہئے وہ اصغرؑ چھ ماہ والا
گھٹنوں کے بل بھی جو چلنے نہ پایا
اُس کا بدن جو نیزے پہ دیکھا
بابا کے سر سے بولی سکینہؑ
آؤ مدد کو اے ابنؐ زہراؑ
بھائی بہن کا یہ ہے نصیبہ
تم بے کفن ہو میں بےردا ہوں
کیسا غموں نے ہم کو ہے گھیرا
تم بھی نہیں ہو غازی نہیں ہے
آؤ مدد کو اے ابنؐ زہراؑ
ریحان و کاشف دشتِ بلا میں
مجلس بپا تھی ساری فضا میں
ذاکر تھی زینبؑ بھائی کی اپنے
مصروف سب تھے آہ و بُکا میں
آؤ مدد کو اے ابنؐ زہراؑ