السلامُ علیکَ یا غریب حُسیناؑ
زنداں سے چھٹ كے ماں جائے آئی
کب سے ہو سوتے اٹھ جاؤ بھائی
چہلم مناوؑں تربت بناؤں
فرشِ عزا پہ آنسو بھاؤن
قصرِ یزیدی خطبوں سے ڈھا كے
ملنے کو تم سے آئی ہے بہنا
تم سے بچھڑ كے در در پھری ہوں
اک اک قدم پر روتی رہی ہوں
بازار دیکھا دربار دیکھا
مرتی رہی ہوں جیتی رہی ہوں
عابدؑ نے بھیا طوق گراں کا
میں نے رسن کا پہنا ہے گہنا
پیغام تیرا لے کر گئی تھی
ہر اک مصیبت میں سہہ رہی تھی
کانٹوں پہ بھیا پیدل چلی تھی
درّے لگے تھے سو نہ سکی تھی
آئی نہ بھیا ساتھ ہمارے
زنداں سے چھٹ كے بالی سكینہؑ
دیکھا تو ہو گا نیزے سے تم نے
جو دکھ اُٹھائے راہوں میں ہم نے
اونٹوں پہ باندھا ہم کو رلایا
دَر دَر پھرایا اہلِ ستم نے
کھائے ہیں پتھر آنسو پئے ہیں
پیراہن غم کا ہم نے تھا پہنا
تم بن وطن میں جا نہ سکون گی
پوچھے گی صغراؑ کیا میں کہوں گی
اکبرؑ نہیں ہے قاسمؑ نہیں ہے
اصغرؑ نہیں ہے کیسے جیوں گی
تم بھی نہیں ہو غازیؑ نہیں ہے
میرے لئے تو مشکل ہے جینا
میں بنتِ زہراؑ تم اِبْن زہراؑ
بھائی بہن کا یہ ہے نصیبا
تم بے کفن ہو میں بے ردا تھی
کیسا غموں نے ہم کو ہے گھیرا
میں جا رہی ہوں قبرِ نبیؐ پر
مجھ کو بتا دو جو کچھ ہے کہنا
ریحان و کاشف دشت بلا میں
مجلس بپا تھی ساری فضا میں
ذاكر تھی زینب بھائی کی اپنے
مصروف سب تھے آہ و بکا مئى
تڑپے تھے لاشے ہو کر ودا جب
زینبؑ چلی تھی سوئے مدینہ