Tera matam sheh e deen bapa hay chand taron may
Efforts: Mrs. Nighat Rizwan



تیرا ماتم شہہِ دیں بپا ہے چاند تاروں میں
تیرے خوں کی شہہِ دیں جھلک ہے چاند تاروں میں

تیرا اکبرؑ سینے پہ جس کے مارا تھا نیزہ اہلِ جفا نے
روئی کربل کی زمیں بُکا تھی ریگزاروں میں

تیرا قاسمؑ گھوڑوں نے جس کو پامال مقتل میں کر دیا تھا
ہائے وہ تنہا تھا سرِ مقتل ہزاروں میں

تیرا غازیؑ دریا کنارے سوتا ہے ہائے شانے کٹائے
روتا ہے دریافلک ہے سوگواروں میں

تیرا اصغرؑ ہاتھوں پہ تیرے مارا گیا جب تیرِ ستم سے
چھائی مقتل میں خزاں فغاں تھی یہ بہاروں میں

تیرے گھر کو امت نے لوٹا خیمے جلائے چھینی ردائیں
دیتی تھی زہراؑ دلاسے دل فگاروں میں

تیری دختر داغِ یتیمی پایا تھا جس نے اِس کمسنی میں
آگ دامن میں لگی لہو تھا گوشواروں میں

تیری بہنیں جب سر برہنہ بازارِ کوفہ سے جا رہی تھیں
روتے تھے عابدؑ فغاں تھی اشکباروں میں