یا ابن جعفر ابوالرضا یا موسی کاظمؑ
تو ساتواں مشکل کشاء نور جناب سیدہؑ
تیرا بابا امام صادق ہے
جس کے دم سے ہیں جعفری سارے
دین و مذہب سبق عبادت کے
ہم کو سارے اسی کے در سے ملے
تو ساتواں مشکل کشاء نور جناب سیدہؑ
ہے کرامات مرتضی تجھ میں
سائلوں کے لیے عطا تجھ میں
رد جو ہوتی نہیں کسی صورت
سانس لیتی ہے وہ دعا تجھ میں
تو ساتواں مشکل کشاء نور جناب سیدہؑ
تم بھی حاجب رواۓ عالم ہو
حیدریت کا عزم محکم ہو
تم دعاۓ جناب زہرا سے
ورثہ دارے جناب آدم ہو
تو ساتواں مشکل کشاء نور جناب سیدہؑ
بس جنون و جمل اور جلا وطنی
تیرے پیاروں نے تجھ سے ہے پائ
کتنے نادان ہیں تیرے دیوانے
عمر بھر تیری نوکری کرلی
تو ساتواں مشکل کشاء نور جناب سیدہؑ
المدد مولا رضا المدد مولا رضا
تیرا بیٹا امام ضامن ہے
جس کے قبضے میں ہے رات ہے دن ہے
وہ خراسان کا ہے شہزادہ
ہر شفاء اس کے در پہ ممکن ہے
تو ساتواں مشکل کشاء نور جناب سیدہؑ
تیری دختر ہے قم کی شہزادی
اس کی چوکھٹ پہ دے صدا جو بھی
جھولیاں اپنی بھر کے لاتا ہے
غم سے ملتی ہے اس کو آزادی
تو ساتواں مشکل کشاء نور جناب سیدہؑ
تیرے تابوت کی وہ تنہائ
نہ تھا بیٹا قریب نہ بھائ
چند مزدور آۓ اجرت پر
لاش رستے سے تیری اٹھوائ
تو ساتواں مشکل کشاء نور جناب سیدہؑ
ہے نجف دشمنوں کے نرغے میں
کربلا سامراء کے رستے میں
بے کفن مومنوں کے لاشے ہیں
کفر داخل ہوا مدینے میں
تو ساتواں مشکل کشاء نور جناب سیدہؑ
مولا تو بھی در حوائج ہے
تیرا سکہ جہاں میں رائج ہے
ہم تو ہر امتحاں سے گزریں گے
دینے والا تو ہی نتائج ہے
تو ساتواں مشکل کشاء نور جناب سیدہؑ
تو بھی ریحان استغاثہ کر
کہہ کہ یا موسی یا ابن جعفر
نوحہ گوئ کرو قیامت تک
اور غلامی کروں در شاہ پر
تو ساتواں مشکل کشاء نور جناب سیدہؑ
تو ساتواں مشکل کشاء نور جناب سیدہؑ
یا ابن جعفر ابوالرضا یا موسی کاظمؑ