اے شام غریباں مجھے کچھ حال سنا دے
کوفے میں اسیروں پہ جو گزری ہے بتادے
آ مجھ کو بتا کیا ہوا دریا کے کنارے
مقتل سے کہاں پر گئے زینبؑ کے دلارے
اب کیا ہوئے اصغرؑ کے وہ معصوم اشارے
ظالم نے سکینہؑ کے طمانچے تو نہ مارے
اے شام غریباں
روداد سنا سبط پیمبر پہ جو گزری
اکبرؑ پہ جو گزری علی اصغرؑ پہ جو گزری
قاسمؑ پہ جو عباسؑ دلاورجو گزری
اور وہ بھی بتا بی بی کی چادر پہ جو گزری
اے شام غریباں
کیا حال ہوا بعد میں شبیر کے گھر کا
کچھ حال بتا مجھ کو اسیروں کے سفر کا
کیسا تھا اجالا بنی ہاشم کے قمر کا
کیا حال تھا اس وقت شہادت کے اثر کا
اے شام غریباں
بے شیر کو جب تیر لگا تھا تو ہوا کیا
وہ شیر جو دریا پہ گیا تھاتو ہوا کیا
مقتل میں اندھیرا جو ہوا تھاتو ہوا کیا
خیمہ جو اسیروں کا جلا تھا تو ہوا کیا
اے شام غریباں
عابد ؑ پہ عروج ایسی مصیبت کی گھڑی تھی
بیمار تھے اور پاؤں میں زنجیر پڑی تھی
ہر چند کہ مشکل تھی مگر بات بڑی تھی
کس طرح سے طے کی گئی منزل جو کڑی تھی
اے شام غریباں