بہت سکوں سے خدا کی طرف چلا ہے حسینؑ
پتہ چلے نہ یہ ماں کو تڑپ رہا ہے حسینؑ
جو میرا فرض تھا اماں ادا کیا میں نے
زمیں میں لاشہءِ اصغرؑ چھپا دیا میں نے
جوان بیٹے کا لاشہ اٹھا لیا میں نے
میں اب بھی پیاسا ہوں پانی نہیں پیا میں نے
غموں سے بھائی کے ٹوٹی ہوئی ہے میری کمر
جگر سے اکبرِؑ مہرو کے کٹ رہا ہے جگر
خدا کا شکر ادا کر رہا ہوں لاشوں پر
نہ روئیں آب بہت مطمئن ہوں میں مادر
میری ہی گود میں بچہ ہوا میرا ذبحہ
جگر سے اپنے جواں کے نکالی میں نے سِنا
گلے پہ کند جو خنجر یہ ہو رہا ہے رواں
بس آخری یہ میرا امتحاں ہے اے اماں
زمین آ نہ سکی راس کوئی بات نہیں
نہیں مدد کو کوئی پاس کوئی بات نہیں
ہوئی نہ ختم میری پیاس کوئی بات نہیں
خدا کو دے دیا عباسؑ کوئی بات نہیں
نکل کے قبر سے نانا میری طرف ہیں رواں
یہ دیکھو اماں کہ بابا بھی آ گئے ہیں یہاں
ہیں منتظر میرا اِس دم خدائے کون و مکاں
سبھی یہ کہتے ہیں شبیرؑ ہے میرا مہماں
قمر یہ کہتے ہوئے مطمئن ہوئے مولاؑ
نکل کے آ ئے گا غیبت سے جب پسر میرا
وہ اپنے ساتھ میری ذوالفقار لائے گا
وہ لے گا کرب و بلا اور شام کا بدلہ