Asghar teri madar ko yeh dard kha na jaye
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi



اصغرؑ تیری مادر کو یہ درد کھا نہ جائے
راتوں کو اٹھ کے اکثر جھولا تیرا جھلائے

صورت تو دکھا دے تو مادر کو ذرا آکر
صدقہ تیرا اتارے سینے پہ ماں سلائے

سوکھے گلے پہ تیرے تیر ستم چلایا
وہ زخم تیری ماں نے اپنے جگر پہ کھائے

سایہ نہیں ہے کوئی لحد پہ بیٹا
تو ہی بتادے مادر سائے میں کیسے جائے

الجھے تو اس قدر ہیں دشت بلا میں بیٹا
اک بار تو صدا دے ماں تجھ کو ڈھونڈ لائے

صفدر غریب ماں کی آتی ہیں یہ صدائیں
تکتی ہوں تیری راہیں گھر لوٹ کے تو آئے