Shaam ke bazaar may yeh kon aaya be rida
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

شام کے بازار میں یہ کون آیا بے ردا - کہہ دو یہ زینبؑ نہیں
آنکھ سے آنسو رواں لب پہ ہے شکر خدا - کہہ دو یہ زینبؑ نہیں

یا خدا یہ کوئی سیدانی نہ ہو
اس کی صورت جانی پہچانی نہ ہو
مجمع اغیار میں کرتی ہے جو آہ وبکا - کہہ دو یہ زینبؑ نہیں

جس نے بالوں کو بنایا ہے ردا
جس کو پتھر مارتے ہیں اشقیاء
روکے اپنے بھائی کا جو پڑھ رہی ہے مرثیہ - کہہ دو یہ زینبؑ نہیں

جس پہ صدقے کی کھجوریں پھینک کر
جشن میں مصروف ہیں سب اہل شر
دے رہی پھربھی امت کو جو جینے کی دعا - کہہ دو یہ زینبؑ نہیں

جس پہ ماتم کر رہی بے کسی
رسیاں ہیں جس کے ہاتھوں میں بندھی
دے رہی ہے یہ جو ساری بی بیوں کو حوصلہ - کہہ دو یہ زینبؑ نہیں

رو رہی ہے جس کے ہاتھوں میں رسن
جس کو سب کہتے ہیں باغی کی بہن
اشک جس کا آب ہے اور تازیانے ہیں غزا - کہہ دو یہ زینبؑ نہیں

جس کے بالوں کی سفیدی دیکھ کر
لگ رہا ہے مر گئے اس کے پسر
جس کی آہوں سے لرز جاتے ہیں یہ ارض و سماء - کہہ دو یہ زینبؑ نہیں

جس کا اک بیمار بیٹا ساتھ ہے
درّے جب ظالم لگاتے ہیں اسے
بڑھ کے سہہ لیتی ہے جو اس کے بھی حصے کی سزا - کہہ دو یہ زینبؑ نہیں

آرزو ہے دل میں یہ ظلِّ رضا
ساتھ میں ہو زائروں کا قافلا
اور اس نوحے سے گونجےشام کی ساری فضا - کہہ دو یہ زینبؑ نہیں