Aey chand Karbala ke
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi



اے چاند کربلا کے
تو نے تو دیکھے ہوں گے
اُترے تھے اس زمیں پر
عرشِ بریں کے تارے

اے چاند جلوہ گر ہے
ہاشم کا چاند یاں پر
خیرات روشنی کی
لے لیجیو یہاں سے
اے چاند کربلا کے

اے چاند اس زمیں پر
رکھیو ہمیشہ ٹھنڈک
سوتے جو ہیں یہاں پر
زہراؑ کے ہیں یہ پیارے
اے چاند کربلا کے

تسنیم و سلسبیل و
کوثر کے ہیں یہ مالک
مارے گئے جو پیاسے
اس نہر کے کنارے
اے چاند کربلا کے

حرؑ اور حبیبؑ جیسے
جانباز اور احباء
مارے گئے یہیں پر
انصار شاہ دیں کے
اے چاند کربلا کے

مارے گئے یہیں پر
بے دردیءِ ستم سے
زینبؑ کے دونوں پیارے
مسلمؑ کے دونوں بیٹے
اے چاند کربلا کے

پامال ہو رہی تھی
قاسمؑ کی لاش رن میں
عباسؑ اور سرورؑ
چنتے تھے اُن کے ٹکڑے
اے چاند کربلا کے 

بازو کٹے یہیں پر
عباسِؑ باوفا کے
اِذنِ وِغا نہ پایا
پانی بھی لا نہ پائے
اے چاند کربلا کے

اس سرزمیں پہ گزرا
سرورؑ پہ یہ بھی صدمہ
سینے پہ کھائی برچھی
ہمشکلِ مصطفیٰ نے
اے چاند کربلا کے

پانی پلانے لائے
اِک مہ لقا کو سرورؑ
کِیَا ذبح حرملا نے
تیرِ ستم لگا کے
اے چاند کربلا کے

گردن کٹی پِدر کی
سینہ چھدا پسر کا
دونوں تڑپ تڑپ کر
پیاسے جہاں سے گزرے
اے چاند کربلا کے

اِس بن میں ایک بچی
بابا کو ڈھونڈتی تھی
بکھرے ہوئے پڑے تھے
جب سر بریدہ لاشے


پھر یہ بھی تو نے دیکھا
وہ غم رسیدہ بچی
سینے پہ سو رہی تھی
بے سر پدر سے لپٹے
اے چاند کربلا کے 

بازو بندھے یہیں پر
پہلے پہل حرم کے
اس سرزمیں سے نکلے
سجادؑ سر جھکائے
اے چاند کربلا کے           

شہزادہءِ جناں بھی
مالک ہے کربلا کا                         
کس کی مجال آئے
جب تک نہ وہ بلائے
اے چاند کربلا کے 

پہنچا ہے کربلا میں
نا چیز سبط جعفر
اے کاش پھر مقدر
ہم کو یہ دن دکھائے
اے چاند کربلا کے