خط فاطمہ صغریٰؑ نے یہ بابا کو لکھا ہے
بیمار ہوں مرتی ہوں یہ کب تم کو پتہ ہے
جس روز سے دیکھا ہے محرم کا نیا چاند
یہ کیسے لکھوں بابا کہ دل ڈوب گیا ہے
وعدہ تو کیا وعدہ نبھانے نہیں آئے
بیمار سے کس بات پہ منہ موڑ لیا ہے
بابا مجھے ڈستی یہ تنہائی وطن کی
یہ گھر کی اداسی ہے تو پھر قبر میں کیا ہے
لوٹ آتے ہیں گھر شام کے ہوتے ہی پرندے
کنبہ میرا کیوں اب بھی سفر میں ہی رہا ہے
تم جب سے گئے گھر سے یہ گھر قبر ہے میری
زندہ ہوں میں ایسے کہ کوئی لاشہ پڑا ہے
بابا میرے اصغر کا تو کچھ حال سناؤ
اس بے زباں نے مجھ کو کبھی یاد کیا ہے
دیکھا ہے حسن صادق ریحان کے نوحوں میں
اشکوں کا سمندر ہے جو پلکوں پہ رکا ہے