Haey haey Zainab haey haey Shaam
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

بازارِ شام دربارِ شام
ہائے ہائے زینبؑ ہائے ہائے شام

بازار سجا ہے اور زینبؑ بے چادر

راہوں میں لوگ شرابی اور بنتِ علیؑ فریادی
ایک چادر مانگ رہی ہے امّت سے سید زادی
اور لوگ تماشائی آئے ہیں بن کر

ہر سو ناپاک نگاہیں اور آلِ نبی کی آہیں
سنگ باری کرنے آئے سب لوگ سجا کر راہیں
اس غم سے حرم ہے سینہ زن نوحہ گر

یہ کیسی قیامت آئی تقدیر کہاں پر لائی
ہر زخم سہا ہے دل پر ہر چوٹ جگر پر کھائی
یہ شوق کی گلیاں کہتی ہیں رو رو کر

عباسؑ کی خواہر زینبؑ ہے بنتِ حیدرؑ زینبؑ
بالوں سے چھپا کر چہرہ پھرتی ہے در در زینبؑ
ہے کیسا قیامت کا لوگوں یہ منظر

جس گھر سے پردہ داری کی رسم ہی تھی جاری
بے پردہ دیکھنے انکو ے ہے دنیا سری
زینبؑ کے کلیجے پر چلتے ہیں خنجر

یہ ظلم بھی کیسا ڈھایا بازارِ شام سجایا
ہاتھوں سے اشارہ کر کے بی بی کا نام بتایا
گرتا تھا وہاں بھی امام میرا غش کھا کر

ہاں بوجھ تھے دل پہ بھاری تھے عشک لہو کے جاری
سوچے تطہیر کی وارث کیسے ہو پردہ داری
طے کرنا ہے اب بن چادر اور سفر

زینبؑ کا درد اٹھانا دو زخم جگر پر کھانا
بھائی کے حلق پہ خنجر اور شام سے ہو کر جانا
ہائے بھول نہ پائے گی زینبؑ یہ منظر

صفدر و ہاشم دیکھو قرطاس و قلم روتا ہے
یہ اجرِ رسالت دیکھو امّت سے جو پایا ہے
زہرہ کی بیٹی روتی ہے ننگے سر