Dua karo ke Zahoor e Imam ho jaye
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

دعا کرو
دعا کرو کے ظھور امام ہو جائے، یہ روز روز کا قصہ تمام ہو جائے

علی کی تیغ کے جوہر کھلیں زمانے پر، تمام دنیا ہو اک تیغ کے نشانے پر،
ہو ساری خلقِ خدا موت کے دھانے پر، جو غیب میں ہے وہ ظاہر امام ہو جائے۔

سناء کی نوک پے اٹھے گا قلہِ خیبر، کفن ہوا کا ملے گا نہ خاک کا بستر،
اجل چباتی پھرے لاشِ مرحب و انتر، جو ظلفقار علی بے نیام ہو جائے۔

کرے گی موجِ ہوا ظلم کو رسن بستہ، زمین بند کرے گی فرار کا رستہ،
وہ برسے آگ جو درباریوں کو ہو سکتا، اگر زبان فدک ہم کلام ہو جائے۔

حقیقی صورتِ اسلام بھی عیاں ہو گی، نگاہِ عدل زمانے کی پاسباں ہو گی۔
پھر ایک کلمہ یہاں ایک ہی اذاں ہو گی، پہِ نماز جو حاضر امام ہو جائے۔

نہ شرک ہوگا نہ الحاد و کفر کچھ بھی نہیں، خدا کے دین سے آباد ہو گی ساری زمین،
ہر ایک ساغرِ نفسِ بشر میں ہو گا یقین، مقیم شہ رگِ جاں کا قیام ہو جائے۔

مگر وہ شہ رگ جاں جس پے چل گیا خنجر، مگر وہ سر جو اٹھایا گیا تھا نیزے پر،
مگر وہ پیاسا جو ہے ابنِ ثاقی ءِ کوثر، ہر اک زبان کی زینت وہ نام ہو جائے۔

حیا بھی روتی ہے جس پر وہ زینبِ مظتر، اسے بھی کوچہ بہ کوچہ پھرایا بے چادر،
جو سیدہ کی ہے بیٹی حسین کی خواہر، وہی جو رو کشِ دربار شام ہو جائے۔

رہے جو پیاسے لبِ جو انہیں ابد کا سلام، قلم جو ہو گئے بازو انہیں ابد کا سلام،
جو ان کے غم میں ہیں انسو انہیں ابد کا سلام، خدا کرے کے شروع انتقام ہو جائے۔