Toot gayi aas meri toot gayi aas
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

ٹوٹ گئی آس

ٹوٹ گئی آس میری ٹوٹ گئی آس
ٹوٹ گئی آس میری ٹوٹ گئی آس

ارے دیر ہوئی میرے چچا جاں کو سدھارے
اکبرؑ و بابا ہیں گۓ نہر کنارے
ارے اماں میرا حلق جلا پیاس کے مارے
ارے ڈوبتے جاتے ہيں میرے دل کے سہارے

ٹوٹ گئی آس میری ٹوٹ گئی آس
ٹوٹ گئی آس میری ٹوٹ گئی آس

عباسؑ بہت تجھ سے تھا زینبؑ کو سہارا
ہاۓ اب کوئ نہیں عالمِ غربت میں ہمارا

ثانی زہراؑ یہ بکاہ کرتی ہيں روکر
تم سے تو ڈھارس تھی مجھے میرے برادر
بابا کا فرمان ہوا اب تو مقدر
ارے چھین کے لے جائيں گے اعداء میری چادر

ٹوٹ گئی آس میری ٹوٹ گئی آس
ٹوٹ گئی آس میری ٹوٹ گئی آس

تم شرم سے خیمے میں بھی آۓ نہ برادر
ہاۓ شہہ لاۓ تھے جب لاشئہِ قاسمؑ کو اٹھا کر

پیٹھ کے سر کہتی ہیں فروہؑ میرے عباسؑ
ارے قتل ہوا ابن حسنؑ میں ہوئی بے آس
ارے آۓ نہ تم دینے کو پرسہ بھی میرے پاس
ارے ہوتا ہے اب تیری حیاء داری کا احساس

ٹوٹ گئی آس میری ٹوٹ گئی آس
ٹوٹ گئی آس میری ٹوٹ گئی آس

تو نے مجھے محرومی میں کیا شان عطا کی
ہاۓ کلثومؑ کو تڑپاۓ گی تا عمر جدائی

نظروں میں پھرتا ہے ابھی تک وہی منظر
عاشور کی شب تیری وفا نقش ہے دل پر
ارے کیا کہہ کے تجھے روۓ کرے نالا یہ خواہر
ارے اب تو ہی بتا دے مجھے اے میرے برادر

ٹوٹ گئی آس میری ٹوٹ گئی آس
ٹوٹ گئی آس میری ٹوٹ گئی آس

اصغرؑ کی نہ جب دیکھی گئی تشنہ دہانی
ارے میں نے دی تسّـلی اسے آنے کو ہے پانی

ارے ہاۓ میرے ننھے سے اصغرؑ کے چچا جان
ارے بانو شبیرؑ بہت تجھ پہ تھی نازان
ارے پیاسا ہی مرجاۓ گا اب اصغرِؑ نادان
ارے جل کے اجڑ جانے کا بھی ہوگيا سامان

ٹوٹ گئی آس میری ٹوٹ گئی آس
ٹوٹ گئی آس میری ٹوٹ گئی آس

بارات بھتیجے کی چچا جائيں گے لے کر
ارے اس آس میں اٹھارہ برس پالا تھا اکبر

ہے چاک گریبان فغاں کرتی ہیں لیلیؑ
اکبرؑ میرا اب بن نہ سکے گا کبھی دولہا
ٹکڑے ہوا سب حسرت و ارماں کا کلیجہ
ارے کیا دیکھتے ہی دیکھتے یہ ہوگيا بھیّـا

ٹوٹ گئی آس میری ٹوٹ گئی آس
ٹوٹ گئی آس میری ٹوٹ گئی آس

شہہ کہتے تھے باقی نہ رہا علمدار نہ لشکر
ارے زینبؑ یہ بڑھا دو علم دلبر حیدرؑ

تاریخ نے مقتل میں انیس جس طرح لکھا
وہ سینہ زنی اور قیامت کا تھا گریہ
سر پیٹتے تھے زیر علم دلبر زہرا
ارے سوکھے ہوۓ ہونٹوں پہ تھا پردرد یہ نوحہ

ٹوٹ گئی آس میری ٹوٹ گئی آس
ٹوٹ گئی آس میری ٹوٹ گئی آس