Ye maa kahan na thi
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

یثرب میں آئيں خواب میں زینبؑ کے یوں بتول
ماتھا بھرا تھا خون میں سر پر ردا نہ تھی
زینبؑ نے پوچھا کس کے لہو سے جبیں ہے لال
اماں تم پر تو آفت سفر کربلا نہ تھی
رو کر کہا بتول نے تم یاد تو کرو
تم اپنی یاد کو ذرا آباد تو کرو
کس وقت کس جگہ میں شریک عزا نہ تھی
یہ ماں کہاں نہ تھی
زینبؑ سفر میں ساتھ تیرے ماں کہاں نہ تھی
یہ ماں کہاں نہ تھی

روئی تمہارے ساتھ بہتر کی لاش پر
اکبر کی لاش پر علی اصغرؑ کی لاش پر
زینبؑ میں کس شہید کی صاحب عزا نہ تھی
یہ ماں کہاں نہ تھی
زینبؑ سفر میں ساتھ تیرے ماں کہاں نہ تھی
یہ ماں کہاں نہ تھی

جھاڑا تھا کس نے بالوں سے صحرائے کربلا
کس نے بچھایا خاک مصلائے کربلا
ہائے ہائے میں کربلا میں شب قتل کیا نہ تھی
یہ ماں کہاں نہ تھی
زینبؑ سفر میں ساتھ تیرے ماں کہاں نہ تھی
یہ ماں کہاں نہ تھی

رخت کہن حسینؑ نے مانگا تھا جس گھڑی
خیمے میں بی بی تم کو غش آيا تھا جس گھڑی
خیمے کے پیچھے رونے کی میری صدا نہ تھی
یہ ماں کہاں نہ تھی
زینبؑ سفر میں ساتھ تیرے ماں کہاں نہ تھی
یہ ماں کہاں نہ تھی

رخصت کو آیا خیمے میں جب ابن بوترابؑ
تھامی تھی تم نے جس گھڑی مظلوم کی رکاب
کیا ساتھ ساتھ گھوڑے کے میں ننگ پا نہ تھی
یہ ماں کہاں نہ تھی
زینبؑ سفر میں ساتھ تیرے ماں کہاں نہ تھی
یہ ماں کہاں نہ تھی

جب تم گری تھیں بھائی کے لاشے پہ اونٹ سے
ناقے پہ تم سوار تھی بازو رسن میں تھے
کیا بال کھولے لاش پہ خیرالنساءؑ نہ تھی
یہ ماں کہاں نہ تھی
زینبؑ سفر میں ساتھ تیرے ماں کہاں نہ تھی
یہ ماں کہاں نہ تھی

یثرب سے تابہ ماریہ اور واں سے تابہ شام
ہمراں ہاں تھی قدم بہ قدم ساتھ گامزاں
زینبؑ کہیں حسینؑ سے زہراؑ جدا نہ تھی
یہ ماں کہاں نہ تھی
زینبؑ سفر میں ساتھ تیرے ماں کہاں نہ تھی
یہ ماں کہاں نہ تھی

زینبؑ نے عرض کی کہ بجا کہتی ہیں جناب
میں سن رہی ہوں جو بخدا کہتی ہیں جناب
اے والدہ مجھے خبر دست و پا نہ تھی
یہ ماں کہاں نہ تھی
زینبؑ سفر میں ساتھ تیرے ماں کہاں نہ تھی
یہ ماں کہاں نہ تھی

امسال بھی نجف کا ارادہ تھا اے دبیر
اور کربلا بھی جاؤں یہ سوچا تھا اے دبیر
پر رہ گئے تڑپ کے کہ قسمت رساں نہ تھی
یہ ماں کہاں نہ تھی
زینبؑ سفر میں ساتھ تیرے ماں کہاں نہ تھی
یہ ماں کہاں نہ تھی