Haey meray Hussain o Hasan
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

ہاۓ میرے حسینؑ و حسنؑ

قید سے چھٹ کے آئی وطن
جب حسینؑ و حسنؑ کی بہن
قبر زہرا پہ جس دم گئی
لائی رو رو کہ لب پر سخن
امّاں امّاں امّاں

بھائی میرے حسینؑ و حسنؑ
چھلنی تیروں سے دونوں کے تن
اک کا تیروں کے زد پر جنازہ
اک کا تیروں کے اوپر جنازہ

ہاۓ میرے حسینؑ و حسنؑ

اک کو روتی ہوئی میں گئی ہوں
اک کو روتی ہوئی آرہی ہوں
یہ بھی صدمہ بہن نے اٹھایا
وہ بھی صدمہ بہن نے اٹھایا

ہاۓ میرے حسینؑ و حسنؑ

اماں دونوں شباب جناح ہیں
اماں دونوں ہی ناناۖ کی جاں ہیں
ایک نے پہلو نبیۖ کا نہ پایا
اک سے شہر نبیۖ کو چھڑایا

ہاۓ میرے حسینؑ و حسنؑ

اماں اک میری آنکھوں کا تارا
ایک کلثوم کا تھا دلارا
ایک کا ہاۓ جگر پارہ پارہ
ایک کو غربت میں لاکھوں نے مارا

ہاۓ میرے حسینؑ و حسنؑ

اک بقیع کی زینت بنا ہے
اک کا مدفن بنی کربلا ہے
اک نے امّاں کا پہلو بسایا
اک نے بیٹوں کو سینے لگایا

ہاۓ میرے حسینؑ و حسنؑ

وقت امّاں وطن مجھ کو لایا
بھائی کوئی نہ ملنے کو آیا
اک مجھ سے مدینے میں بچھڑا
اک نے کرب و بلا کو بسایا

ہاۓ میرے حسینؑ و حسنؑ

قبر زہرا سے آواز آئی
بیٹی زینب تیرے دونوں بھائی
رو کے کہتے ہیں اے امّاں زہرا
کیوں لحد پر نہیں کوئی سایہ

ہاۓ میرے حسینؑ و حسنؑ

کہہ دو دنیا سے ریحان و سرور
وقت بدلہ ہے بدلہ ہے منظر
جن کے لاشوں پہ کل ظلم ڈھایا
ان کا بنتا ہے گھر گھر جنازہ

ہاۓ میرے حسینؑ و حسنؑ