Zinda rahay Hussain tera gham
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

زندہ رہے حسینؑ
زندہ رہے حسینؑ تیرا غم، تیرا غم مناۓ گے
اے فاطمہ کے لعل یہ وعدہ نبھائيں گے

گھر میں ہمارے آئيں گی مجلس میں فاطمہ
فرش عزا کے ساتھ یہ دل بھی بچھائيں گے

جھولیں عماریاں یہ شبیہیں یہ تازیے
تہذیب غم سے درد کے منظر سجائيں گے

یہ ان کا ہے جلوس جو پیاسے ہوۓ شہید
ہم اس کے راستے میں سبیلیں لگائيں گے

کہتے ہیں چھوٹے چھوٹے سے بچے یہ باپ سے
اک روز بابا جاں یہ علم ہم اٹھائيں گے

کچھ دیر ذوالجناح میرے گھر پہ روک دو
پیاسے کی اس سواری کو پانی پلائيں گے

بچپن سے ہے دعا کہ بنائيں گے گھر جہاں
عاشور خانہ گھر میں وہاں ہم سجائيں گے

گھر میں اگر ہو نذرِ سکینہؑ تو ہے یقین
اس نذر میں سکینہ کے عمّو بھی آئيں گے

اس شان کے ملے ہيں نمازی حسینؑ کو
تیروں کے سامنے یہ مصّلے بچھائيں گے

بچوں کو اپنے سجدہِ شبیرؑ کی قسم
ماتم کے ساتھ ساتھ نمازيں سکھائيں گے

راہ حسینؑیت کے شہیدوں سلام لو
تم کو نہ اپنے دل سے کبھی ہم بھلائيں گے

بعد ظہور ہوگا محرم کا یہ حشم
ہم کربلا امام(عج) کے ہمراہ جائيں گے

نوحہ بھی سفیر عزا سرور و ہلال
جس دیس میں بھی جائيں گے نوحہ سنائيں گے

زندہ رہے حسینؑ تیرا غم، تیرا غم مناۓ گے
زندہ رہے حسینؑ