Nok e neza pe thaharta nahi Abbas ka sar
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

جب شام کے بازار میں سیدانیاں آئيں
ارے چادر کی جگہ خاک سفر بالوں پہ لائيں
ناگہاں جب غازی کی نظر کلثومؑ تک آئ
ارے سر خاک پر عباسؑ نے نیزے سے گرایا
ڈر ہے کلثومؑ کے چہرے پہ نہ پڑ جاۓ نظر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباسؑ کا سر

ایک غیور وفادار پہ اب اور ستم کیا ہوگا
جس کی چادر کا محافظ تھا وہی آج ہوئ بے پردہ
شام والوں اسی احساس سے دوران سفر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباسؑ کا سر

ڈر ہے کلثومؑ کے چہرے پہ نہ پڑ جاۓ نظر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباسؑ کا سر

گرگئ راہ میں ناقہ سے سکینہ تو یہ زینب نے کہا
ایک چچا اور بھتیجی کی محبت تو ذرا دیکھ خدا
پشت ناقہ پہ سنبھلتی نہیں شہہ کی دختر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباسؑ کا سر

ڈر ہے کلثومؑ کے چہرے پہ نہ پڑ جاۓ نظر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباسؑ کا سر

شام کے لوگ تماشائ بنے اور تماشا سادات
بے وطن اور کھلے سر ہیں سر راہ کریں کیا سادات
خون آنکھوں سے بہاتے ہیں شہہ جن و بشر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباسؑ کا سر

ڈر ہے کلثومؑ کے چہرے پہ نہ پڑ جاۓ نظر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباسؑ کا سر

آندھیوں خاک اڑاؤں کے بنے اس سے حرم کا پردہ
گونجی جب شام کی غم ناک فضاؤں میں یہ زنیب کی صدا
آسماں رونے لگا روئ زمیں یہ کہہ کر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباسؑ کا سر

ڈر ہے کلثومؑ کے چہرے پہ نہ پڑ جاۓ نظر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباسؑ کا سر

چشم سجاد سے بہنے لگے اس وقت لہو کے دھارے
جب کہ معصوم سکینہ کو ستمگر نے طمانچے مارے
لاشہ ساحل پہ تڑپتا ہے اور ادھر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباسؑ کا سر

ڈر ہے کلثومؑ کے چہرے پہ نہ پڑ جاۓ نظر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباسؑ کا سر

رونے والوں سر بازار کھلے سر تھی علی کی بیٹی
گر گيا فرق وفادار جو نیزے سے تو حیراں تھے شقی
پوچھا عابد سے ستمگر نے بتاؤ کیوں کر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباسؑ کا سر

ڈر ہے کلثومؑ کے چہرے پہ نہ پڑ جاۓ نظر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباسؑ کا سر

ساتھ سادات کے شہزادی کونین سفر کرتی رہی
نوحہ کرتے ہیں نبیۖ خاک اڑاتے ہیں حسن اور علی
ہاۓ کیا وقت ہے روتے ہیں سناں پر سرور
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباسؑ کا سر

ڈر ہے کلثومؑ کے چہرے پہ نہ پڑ جاۓ نظر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباسؑ کا سر

کبھی لیلی کبھی فروہ کبھی کلثومؑ کہيں واویلا
چہرہ بالوں سے چھپاتے ہوۓ زینب نے یہی رو کے کہا
اماں فضہ ذرا دیکھو تو یہ غم کا منظر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباسؑ کا سر

ڈر ہے کلثومؑ کے چہرے پہ نہ پڑ جاۓ نظر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباسؑ کا سر

نوحہ لکھتے ہوۓ عرفان یہ مظہر نے کہا تھا رو کر
کون قرطاس پہ لا سکتا ہے اولاد پیعمبرۖ کا سفر
رو دیئے قلب و جگر ایک ہی مصرعہ لکھ کر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباسؑ کا سر

ڈر ہے کلثومؑ کے چہرے پہ نہ پڑ جاۓ نظر
نوک نیزہ پہ ٹہرتا نہیں عباسؑ کا سر