Ran ko jatay huay sar jhukaey huay
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi



الوداع الوداع
رن کو جاتے ہوۓ سر جھکاۓ ہوۓ
شہہ نے رو کر کہا الوداع الوداع
آيا وقت سفر اے بہن آج ہم
ہو رہے ہیں جدا الوداع الوداع

شاہ بڑھ کر بہن کے گلے لگ گۓ
اور دکھیا بہن سے یہ کہنے لگے
میرے مظلوم پیاسی مسافر بہن
تیرا حافظ خدا الوداع الوداع

جس سے ڈرتی تھیں تم وہ گھڑی آگئ
دیکھو چاروں طرف تیرگی چھا گئ
دشت پرحول میں شام ہونے کو ہے
لو مسافر چلا الوداع الوداع

لے کے بالی سکینہ کو آغوش میں
ننھے ننھے سے ہاتھوں کے بوسے لیے
شہہ نے حسرت سے بیٹی کو تکتے ہوۓ
آہ بھر کر کہا الوداع الوداع

بولا بیمار بیٹے سے آقا میرا
اب نہ آۓ گا اے بیٹا بابا تیرا
موت کی آہٹیں تیز ہونے لگی
آرہی ہے صدا الوداع الوداع

آیا خیمے سے باہر جو مولا میرا
بھائ بیٹا بھتیجا کوئ بھی نہ تھا
ایک حسرت سے چاروں طرف دیکھ کر
شہہ نے خود ہی کہا الوداع الوداع

جب تڑپ کر کہا میرے شیروں اٹھو
آؤ سب اپنے بھائ کو رخصت کرو
ایک اک لاش بے سر آئ صدا
اے شہہ کربلا الوداع الوداع

ایسا ماتم کرو ایسا ماتم کرو
آکے بی بی کہيں مرحبا مرحبا
خوں اگلتے ہوۓ ایک اک زخم سے
آج آۓ صدا الوداع الوداع

الوداع الوداع الوداع الوداع