ابا تیرے بغیر بھلا کیسے جیئوں گی
بابا تیرے بغیر بھلا کیسے جیئوں گی
تنہا رہوں گی قید میں زنداں میں مروں گی
بابا تیرے بغیر بھلا کیسے جیئوں گی
سوتی ہوئ بہنا کو چچا چھوڑ نہ جانا
یہ آخری رشتہ بھی کہیں توڑ نہ جانا
پانی کے لیے آپ سے اب میں نہ کہوں گی
بابا تیرے بغیر بھلا کیسے جیئوں گی
بابا کو دیکھتی تھی تو آتے تھے نظر تیر
ایک پل میں سکینہ سے جدا ہوگۓ شبیر
سینے سے لگا لو مجھے اب کس سے کہوں گی
بابا تیرے بغیر بھلا کیسے جیئوں گی
گزرے گی کس طرح سے میری شام غریباں
اصغر کو صدا دوں گی میں لاشوں کے درمیاں
ہاتھوں میں پانی ہوگا مگر میں نہ پیئوں گی
بابا تیرے بغیر بھلا کیسے جیئوں گی
معراج محمدۖ کا انمول نگینہ
رکھا ہے آپ ہی نے میرا نام سکینہ
اب قید صغیروں کی میں سالار بنوں گی
بابا تیرے بغیر بھلا کیسے جیئوں گی
تصویر پیعمبرۖ کی دکھا کیوں نہیں دیتے
بابا مجھے اصغر سے ملا کیوں نہیں دیتے
یہ صدمہ جدائ کا بھلا کیسے سہوں گی
بابا تیرے بغیر بھلا کیسے جیئوں گی
بابا کا رستہ روک کے راہوں میں کھڑی ہے
معصوم سکینہ پہ قیامت کی گھڑی ہے
رو رو کے یہ کہتی ہے کہ جانے نہیں دوں گی
بابا تیرے بغیر بھلا کیسے جیئوں گی
ہے بھیڑ قیامت کی پتھروں کی ہے برسات
میں ہاتھ اٹھاؤں تو مٹ جاۓ کائنات
یہ بد دعا جہاں کے لیے میں نہ کروں گی
بابا تیرے بغیر بھلا کیسے جیئوں گی
تنہا رہوں گی قید میں زنداں میں مروں گی
بابا تیرے بغیر بھلا کیسے جیئوں گی
بابا تیرے بغیر بھلا کیسے جیئوں گی
بابا تیرے بغیر بھلا کیسے جیئوں گی