Pyasi hay Sakina(a.s.)
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi



پیاسی ہے سکینہؑ ہاۓ پیاسی ہے سکینہؑ

اے مومنو جب مجلسِ شبیرؑ میں آنا - پیاسی ہے سکینہؑ
بچوں کا تمہیں واسطہ یہ بھول نہ جانا - پیاسی ہے سکینہؑ 
یہ سوچ کے جی کھول کے تم اشک بہانا - پیاسی ہے سکینہؑ
مجلس جہاں ہوگی وہاں آتی ہے سکینہؑ
ارے پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہے سکینہؑ
پیاسی ہے سکینہؑ ہاۓ پیاسی ہے سکینہؑ

اللہ کرے آۓ کبھی ایسا زمانہ
ہو شام کے زنداں کی طرف آپ کا جانا
پھٹ جاۓ گا دل دیکھ کے وہ غم کا ٹھکانہ
بے حال ہوئی قبر میں ارے سوتی ہے سکینہؑ
ارے پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہے سکینہؑ
پیاسی ہے سکینہؑ ہاۓ پیاسی ہے سکینہؑ

یوں جانب دریا گۓ عباسِؑ دلاور
اور دریا سے مشکیزہ بھرا با دلِ مضطر
دریا کی ہر اک موج یہ کہتی تھی تڑپ کر
ہے تیسرا دن ہاۓ تڑپتی ہے سکینہؑ
ارے پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہے سیکنہؑ
پیاسی ہے سکینہؑ ہاۓ پیاسی ہے سکینہؑ

شام آگئی جب چھانے لگا بن میں اندھیرا
زینبؑ نے کیا بھائی کے لاشے پہ یہ نوحہ
کیا تم نے سکینہؑ کو کہیں دیکھا ہے بھیا
اِک کوزہ لئے دشت میں آئی ہے سکینہؑ
ارے پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہے سکینہؑ
پیاسی ہے سکینہؑ ہاۓ پیاسی ہے سکینہؑ

جب گیارہ محرّم کو سُوئے شام سدھاری
دریا کی طرف دیکھ کے زینبؑ یہ پکاری
ہائے عباسؑ نہ مر جائے بھتیجی یہ تمہاری
بے حال میری گود میں سوتی ہے سکینہؑ
ارے پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہے سکینہؑ
پیاسی ہے سکینہؑ ہاۓ پیاسی ہے سکینہؑ

اِس طرح ستم ڈھاتے ہیں اب ظلم کے بانی
لا کر یہ بھرے کوزے بہا دیتے ہیں پانی
کچھ اور بھی بڑھ جاتی ہے ہوں تشنہ دھانی
بھائی کی طرف دیکھ کے روتی ہے سکینہؑ
ارے پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہے سکینہؑ
پیاسی ہے سکینہؑ ہاۓ پیاسی ہے سکینہؑ

آنسو ابھی بچی کے نہیں پائے تھے تھمنے
پھر مار دیا درّہ کسی اہلِ ستم نے
سجّادؑ کو ہر گام رلایا اسی غم نے
اِس عمر میں یہ سختیاں سہتی ہے سکینہؑ
ارے پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہے سکینہؑ
پیاسی ہے سکینہؑ ہاۓ پیاسی ہے سکینہؑ

درّوں کی اذیّت سے تڑپتی ہے حزینہ
دکھتا ہے بدن سسکیاں لیتی ہے سکینہؑ
سونے کے لئے پاس نہیں بابا کا سینہ
اِک کونے میں سہمی ہوئی بیٹھی ہے سکینہؑ
ارے پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہے سکینہؑ
پیاسی ہے سکینہؑ ہاۓ پیاسی ہے سکینہؑ

یہ ظلم بھی کمسن پہ ستمگاروں نے ڈھایا
رکھا ہے اُسے قید وہاں پر یک و تنہا 
رہتا ہے جہاں دن میں قیامت کا اندھیرا
ڈر ڈر کے نہ مر جائے اکیلی ہے سکینہؑ
ارے پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہے سکینہؑ
پیاسی ہے سکینہؑ ہاۓ پیاسی ہے سکینہؑ

کہتا ہے سُنو ہاتھوں کو جوڑے ہوئے گوہر
آج ایسے بہے آنکھوں سے اشکوں کا سمندر
یہ کہتی ہوئی جائے نہ شبیرؑ کی دختر
لب خشک زباں سوکھی ہے روتی ہے سکینہؑ
ارے پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہے سکینہؑ
پیاسی ہے سکینہؑ ہاۓ پیاسی ہے سکینہؑ