Meray bhayya Abbas(a.s.), meray bhayya Abbas(a.s.)
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

بولے شبیرؑ میری بالی سکینہؑ کی آس
میرے بھیا عباسؑ – میرے بھیا عباسؑ

آج ہوتا ہے غریبی کا ہمیں بھی احساس
میرے بھیا عباسؑ – میرے بھیا عباسؑ

ہم نے تو گود میں بچپن سے کھلایا ہے تمہیں
لڑکھڑاتے ہوۓ چلنے میں سنبھالا ہے تمہیں
شانہ بالوں میں کیا تو کبھی پہنایا لباس
میرے بھیا عباسؑ – میرے بھیا عباسؑ

حق سے مانگا ہے علی نے تمہیں نصرت کے لیے
حملہ کفر سے سرور کی حفاظت کے لیے
تم چلے جاؤ گے تو کون ہے شبیرؑ کے پاس
میرے بھیا عباسؑ – میرے بھیا عباسؑ

پانی لانے کے لیے تم گۓ سوۓ دریا
کیا قیامت ہے ملی لاش تمہاری بھیا
کون اب جاکے بجھاۓ گا سکینہؑ کی پیاس
میرے بھیا عباسؑ – میرے بھیا عباسؑ

بات پانی کی نہیں بچے بہل جائيں گے
پڑھ کے بتلاؤ کے جب ہم نہ تمہیں پائيں گے
کس کو لپٹا کے بجھاؤں گا میں سینے کی پیاس
میرے بھیا عباسؑ – میرے بھیا عباسؑ

کوئ تدبیر کرو پیاس بجھانے کی ذرا
مشک کے ساتھ بندھی ہے میرے بچوں کی آس
میرے بھیا عباسؑ – میرے بھیا عباسؑ