Bano ka yeh noha tha Akbar jo mera hota
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

بانو کا یہ نوحہ تھا اکبرؑ جو میرا ہوتا
بازو نہ میرا بندھتا اکبرؑ جو میرا ہوتا

تھی کس کی یہ مجال آخر جو خیمے جلا دیتا
اور پاؤں ميں عابد کے زنجیر پنہا دیتا
کیا اس کا گلا بندھتا اکبرؑ جو میرا ہوتا

بازاروں میں سر ننگے تشہیر ہوئ مادر
بالوں سے چھپاۓ منہ کہتی ہے یہ رورو کر
بلوے میں نہ سر کھلتا اکبرؑ جو میرا ہوتا

جکڑا ہے گلا ایسا رسی میں سکینہ کا
بے چین ہے وہ بچی دم سینے میں گھٹتا تھا
غم سہتی نہ وہ دکھیا اکبرؑ جو میرا ہوتا

پامال ہوا رن میں لاشہ شہہ والا کا
بے گور و کفن اب تک رن میں ہے پڑا لاشہ
سامان کفن کرتا اکبرؑ جو میرا ہوتا

لاشہ اصغرؑ پر کہتی ہے یہ رورو کر
تم مرگۓ اے بیٹا رونے کو رہی مادر
لٹتی نہ میری دنیا اکبرؑ جو میرا ہوتا

زخمی ہے بدن ایسا درّوں کی اذیت سے
ہنس ہنس کے لعینوں نے ردا سر سے
ماں ہوتی نہ بے پردہ اکبرؑ جو میرا ہوتا

خط فاطمہ صغرا کا آیا ہے مدینے سے
بیمار بہن کو تم کیوں لینے نہیں آۓ
وعدہ یہ وفا کرتا اکبرؑ جو میرا ہوتا

بانو کا یہ نوحہ تھا اکبرؑ جو میرا ہوتا
بازو نہ میرا بندھتا اکبرؑ جو میرا ہوتا