Aik bar aur mujhe goad may le lo baba
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi



ہاۓ سکینہؑ ‘ ہاۓ سکینہؑ
ایک بار اور مجھے گود میں لے لو بابا

وا حسیناؑ کا ہوا شور حرم میں برپا
ہوکے رخصت جو چلے گھر سے شہہ کرب و بلا
کہہ کے یہ دوڑی سکینہؑ کہ ٹھہر جاؤ زرا
ایک بار اور مجھے گود میں لے لو بابا

شہہؑ نے بچی کا جو یہ حال پریشاں دیکھا
رو کے فرمایا کہ کیا حال میری ماہ لقا
جوڑ کر ننھے ہاتھوں کو سکینہؑ نے کہا
ایک بار اور مجھے گود میں لے لو بابا

بابا سینے سے سکینہؑ کو لگاتے جاؤ
اب کہاں ہوگی ملاقات بتاتے جاؤ
تم کو اکبرؑ قسم غنچہ دہن کا صدقہ
ایک بار اور مجھے گود میں لے لو بابا

سوچتی ہوں کہ تمانچے کوئی مارے نہ میرے
گوشوارے کوئی کانوں سے اتارے نہ میرے
وہم آتے ہیں میرے دل میں نہ جانے کیاکیا
ایک بار اور مجھے گود میں لے لو بابا

میں سمجھتی ہوں کہ یوں ہی مجھے بہلاتے ہو
تھا نہ معلوم کہ مرنے کے لئے جاتے ہو
تم ہمیشہ کے لئے ہوتے ہو اب مجھ سے جدا
ایک بار اور مجھے گود میں لے لو بابا

اب نہ پیاسی ہوں نہ پانی کی ضرورت ہے مجھے
کوئی حاجت نہیں بس اتنی سی حسرت ہے مجھے
دیکھ لوں صرف میں جی بھر کے تمھارا چہرہ
ایک بار اور مجھے گود میں لے لو بابا

کیا خبر تم سے کوئی بات بھی اب ہوکہ نہ ہو
کون جانے کہ ملاقات بھی اب ہو کہ نہ ہو
دل دھڑکتا ہے میرے بہر نبی بہر خدا
ایک بار اور مجھے گود میں لے لو بابا

اپنی آغوش میں اے بابا چھپالومجھ کو
آخری بار کلیجے سے لگا لو مجھ کو
جیتے جی آہ کہاں اب تمہیں پاؤں گی بھلا
ایک بار اور مجھے گود میں لے لو بابا

تم نہ آؤ گے تو اے بابا بہت روؤں گی
کس کے سینے پہ بتا دیجئے پھر سوؤں گی
نہ تو بھیا علی اکبرؑ ہیں نہ عباسؑ چچا
ایک بار اور مجھے گود میں لے لو بابا

ضبط کی تاب نہ رہی اے انور
ہاتھ پھیلا کے بڑہے بیٹی کی جانب سرورؑ 
جس گھڑی بے کس و معصوم نے رو رو کے کہا
ایک بار اور مجھے گود میں لے لو بابا

-----------------------------------------------------
اپنی بیٹی کی طرف پیار سے دیکھو بابا
یہ میری آخری خواہش ہی سمجھ لو بابا
کچھ نہیں مانگوں گی پھر تم سے یہ وعدہ ہے میرا

پاس بیشیر کے مقتل میں چلے جاؤ گے
مجھ کو معلوم ہے کہ اب آپ نہیں آؤ گے
کیا یہ ممکن نہیں کچھ دیر ٹہر جاؤ ذرا

پھول کی طرح سدا ساتھ رکھا مجھ کو
آج تک آپ نے تنہا نہیں چھوڑا مجھ کو
اب مجھے چھوڑ کے کیوں جاتے ہو تنہا بابا

تنہا میدان میں ہر گز نہيں جانے دیتے
ہوتے غازی تو سکینہؑ کی سفارش کرتے
آپ کو واسطہ غازی کے کٹے شانوں کا

یہ امانت نہ کوئ چھین لے مجھ سے آکر
ساتھ لے جائیے بابا میرے کانوں کے گوہر
اپنی معصوم سکینہؑ پہ یہ احساں ہوگا

پھر سے قرآن محبت کی تلاوت کرلوں
دل یہ کہتا ہے کہ جی بھر کے زیارت کرلوں
اب کہا ہوگی ملاقات نہ جانے بابا

وقت اے کاش تکلم جو وہیں رک جاتا
اپنے بابا سے سکینہؑ نہ کبھی ہوتی جدا
پھر کبھی آتی نہ معصوم لبوں سے یہ صدا