Berriyan tham ke jab Abid e beemar chalay
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi



کربلا کانپ اٹھی خلد میں روۓ نبیۖ
بیڑیاں تھام کے جب عابدؑ بیمار چلے

آہ ڈھاتے تھے ستم تازیانوں سے شقی
بیڑیاں تھام کے جب عابدؑ بیمار چلے

کربلا کانپ اٹھی خلد میں روۓ نبیۖ
بیڑیاں تھام کے جب عابدؑ بیمار چلے

خوں تھا زخموں سے رواں
غش پہ غش کھاتے رہے
اس پہ اہل ستم درّے برساتے رہے
بہر امداد صدا کس کو دے بنت علی
بیڑیاں تھام کے جب عابدؑ بیمار چلے

کربلا کانپ اٹھی خلد میں روۓ نبیۖ
بیڑیاں تھام کے جب عابدؑ بیمار چلے

آگے شہداء کے تھے سر پیچھے قیدی تھے حرم
نیزہ ہاتھوں میں لیے ساتھ تھے اہل ستم
آل احمدۖ کے لیے تھی مصیبت کی گھڑی
بیڑیاں تھام کے جب عابدؑ بیمار چلے

کربلا کانپ اٹھی خلد میں روۓ نبیۖ
بیڑیاں تھام کے جب عابدؑ بیمار چلے

دی یہ زینب نے صدا آؤ عباس جری
سر کھلے شام چلی عترت آل نبیۖ
تھام کے روتے تھے دل دیکھنے والے سبھی
بیڑیاں تھام کے جب عابدؑ بیمار چلے

کربلا کانپ اٹھی خلد میں روۓ نبیۖ
بیڑیاں تھام کے جب عابدؑ بیمار چلے

سر کھلے اہل حرم اور وہ غیرت دار
آگے سجاد حزیں پکڑے اونٹوں کی مہار
شرم وغیرت سے نہ کیوں اس کی گردن ہو جھکی
بیڑیاں تھام کے جب عابدؑ بیمار چلے

کربلا کانپ اٹھی خلد میں روۓ نبیۖ
بیڑیاں تھام کے جب عابدؑ بیمار چلے