Athara baras ke Ali Akbar ka janaza
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi

اٹھارہ برس کے علی اکبرؑ کا جنازہ
اٹھارہ برس کے علی اکبرؑ کا جنازہ

شہہ لاتے ہیں ہم شکل پیعمبرؑ کا جنازہ
اٹھارہ برس کے علی اکبرؑ کا جنازہ

اے کل کے مددگار مدد کرنے کو آؤ
شبیرؑ سے اٹھتا نہیں اکبرؑ کا جنازہ

خیمے میں علم آیا ہے کہرام ہے برپا
دریا پہ ہے عباسِؑ دلاور کا جنازہ

کس درجہ سکینہؑ سے تھا شرمندہ علمدار
شہہ لا نہ سکے اپنے برادر کا جنازہ

پڑ جائے نہ یارب کہیں زینب کی نگاہیں
تیروں پہ ہے رکھا ہوا سرورؑ کا جنازہ

کیا ظلم ہے تپتی ہوئ ریتی پہ پڑا ہے
بے گور و کفن سبط پیعمبرؑ کا جنازہ

بانو نے کہا تیر ہیں پیوست بدن میں
دھیرے سے اٹھانا میرے شوہر کا جنازہ

اٹھارہ برس کے علی اکبرؑ کا جنازہ
اٹھارہ برس کے علی اکبرؑ کا جنازہ