آتی ہے سکینہؑ کی صدا کرب و بلا سے
عمو ہو کہاں آپ کے ہم ہیں اب بھی پیاسے
پھٹتا ہے جگر پیاس یہ لے لے گی میری جان
بچ بھی گئ گر شمر کے درّوں کی جفا سے
بے شیر کے ہونٹوں پہ نہیں پیاس کا شکوہ
تر کر دیا اعداء نے گلا تیر جفا سے
جو رن کو گیا رن سے کہاں آیا پلٹ کر
دیتی ہیں پھوپھی جان مجھے یوں ہی دلاسے
سنتی ہوں یتیموں کی دعا رد نہيں ہوتی
یارب مجھے ملوادے پھر ایک بار چچا سے
ماں بہنیں کھلے سر ہيں لہو روتی ہیں آنکھیں
اٹھتا نہیں بھائ کا میرے سر ہاۓ حیا سے
عمو ہو کہاں آپ کے ہم ہیں ابھی پیاسے
آتی ہے سکینہؑ کی صدا کرب و بلا سے