Qafila ja raha hay watan ke liye
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi



قافلہ جارہا ہے وطن کے لیے
کربلا میں قیامت کا اک شور ہے
قافلہ جارہا ہے وطن کے لئے

کوئ روتی ہے اپنے جواں لال کو
رورہی ہے کوئ کم سخن کے لئے
قافلہ جارہا ہے وطن کے لئے

اپنی بربادیوں کو گوارا کیا
خوں میں ڈوبے گلوں کا نظارہ کیا
دے دیا فاطمہ کا بھرا گلستاں
کربلا تیرے اجڑے چمن کے لئے
قافلہ جارہا ہے وطن کے لئے

قصر ظالم کبھی قید خانہ کبھی
نوک نیزہ کبھی تازیانہ کبھی
کون سی تھی اذیت جو دی نہ گئ
ہر جفا تھی اسیر محن کے لئے
قافلہ جارہا ہے وطن کے لئے

جب چلے تھے مدینے سے سب ساتھ تھے
عون و جعفر تھے اکبر تھے عباس تھے
جارہی ہوں مدینے تو کوئ نہیں
اب مصیبت فقط ہے بہن کے لئے
قافلہ جارہا ہے وطن کے لئے

قبر قاسم سے ہے یوں مخاطب پھوپھی
تیری شادی کچھ اس طرح سے بن میں ہوئ
کوئ سہرے کا بھی پھول باقی نہيں
ورنہ لے جاتی قبر حسن کے لئے
قافلہ جارہا ہے وطن کے لئے

کوئ چادر نہ تھی کیسی بے داد تھی
ہاتھ ہوتے ہوۓ بھی نہ آزاد تھی
کتنی مجبور کردی گئ تھی بہن
اپنے بھائ کے دفن و کفن کے لئے
قافلہ جارہا ہے وطن کے لئے

کوئ روتی ہے اپنے جواں لال کو
رورہی ہے کوئ کم سخن کے لئے
قافلہ جارہا ہے وطن کے لئے