Kia kia sitam Hussain(a.s.) ke dil par guzar gaye
Efforts: Syed-Rizwan Rizvi



کیا کیا ستم حسینؑ کے دل پر گزر گۓ
اکبرؑ گزر گۓ علی اصغرؑ گزر گۓ

مشکل تھی راہ حق میں ہر ایک منزل وفا
لے کر علیؑ کا نام بہتّر گزر گۓ

فوجوں کو چیرتے ہوۓ عباسِؑ نامدار
میدان سے مثل حیدرِؑ صفدر گزر گۓ

جب یاد آگئ کبھی زینبؑ کو کربلا
کیا کیا نظر کے سامنے منظر گزر گۓ

ارمان لاکھوں دل میں تھی مادر لئے ہوۓ
دن بیاہ کے جب آۓ تو اکبرؑ گزر گۓ

گھوڑے نے آکے در پہ صدا دی یہ عصر کو
زہراؑ کے لال سبط پیمبرؑ گزر گۓ

دیکھا کیے ہزاروں تماشائی راہ میں
سر کو جھکاۓ آلِ پیمبرؑ گزر گۓ

دیتی رہی دہائی بہن بعد قتل شاہ
لاشوں کو روندتے ہوۓ لشکر گزر گۓ